ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 211
211 کہ تیرا حسن ایسا حسن ہے ایسا فراواں حسن ہے کہ وہ شمع جو تیرے حسن کو دیکھنے سے پہلے روشن نظر آیا کرتی تھی تیرے آنے کے بعد وہ شمع پھیکی پڑگئی اور اس کے چہرے پر کوئی نور کا نشان باقی نہ رہا۔اتنا بڑا خراج تحسین ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عشق کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دل میں موجزن تھا کہ فرشتوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ شخص سب سے زیادہ محبت کرتا ہے بلکہ فرمایا کہ اس کو دیکھا تو یوں لگا کہ ایک ہی ہے جو محبت کرتا ہے اور کوئی باقی نہیں رہا۔دنیا کی کوئی طاقت محبت رسول سے ہمیں جدا نہیں کر سکتی پس آپ کی ماموریت کی بنا ء ہی محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں اور یہی ہماری گھٹی میں ہمیں پلائی گئی ہے، یہی ہماری سرشت ہے۔کوئی دنیا کی طاقت ہمیں اس محبت سے باز نہیں رکھ سکتی۔اگر اس محبت کے جرم میں گستاخی رسول کی چھری سے ہی ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے۔تو میں آج تمام جماعت کی طرف سے ببانگ دہل یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو چاہو کرتے پھرو۔محبت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمارے دلوں سے نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور نہیں نوچ سکتے اور میں یہ بھی بتا تا ہوں کہ یہ محبت زندگی کی ضامن ہے۔یہ محبت رکھنے والوں کو کبھی تم دنیا میں ناکام و نامراد نہیں کر سکو گے۔تمہاری ہر کوشش خائب و خاسر رہے گی۔تمہارا ہر ذلیل الزام تمہارے منہ پہ لوٹایا جائے گا اور محبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہنے کے لئے بنائی گئی ہے اور زندہ رکھنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اس سے جو زندگی ہم حاصل کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کوئی تمہاری طاقت نہیں، کوئی تمہاری استطاعت نہیں ہے کہ اس زندگی کے دل پر پنجہ مار سکو۔( خطبات طاہر جلد 5 صفحہ 499-520) سب سے زیادہ ناموس رسول کی محافظ اور علمبر دار جماعت احمد یہ ہے پاکستان میں جب ناموس رسالت کے قانون کی آواز بلند ہوئی اور دوسری طرف جماعت احمدیہ پر یہ گھناؤنا الزام لگایا گیا کہ احمدی ناموس رسالت کے (نعوذ باللہ ) پاسدار نہیں تو حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ناموس رسالت کا پہلے سے بڑھ کر علم بلند کرنے کے لئے 1994ء میں خطبات کی ایک سیریز کا آغاز فرمایا۔آپ نے اس سلسلہ میں پہلے خطبہ جمعہ 15 جولائی میں فرمایا۔" آج کل جو آپ آئے دن ایسے ہنگاموں کی باتیں سنتے ہیں جن میں انبیاء کی عصمت اور عزت اور احترام کے نام پر بنائے جانے والے قانون زیر بحث ہیں۔اور یہ کہا جاتا ہے کہ عصمت انبیاء اور خصوصا آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بہتک اور گستاخی کے نتیجے میں جو موت کی سزا پاکستان میں مقرر کی گئی ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔گویا محض اللہ یہ کارروائی تھی اور اس کے خلاف کوئی حرکت، کوئی قانون ، کوئی کوشش قابلِ