ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 210
210 سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو والله ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا اور اس قدر کبھی دل نہ دکھتا جوان گالیوں اور اس تو ہین سے جو ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گئی دکھا۔آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 51-52) محب رسول حضرت مسیح موعود کی طرف سے اسلام کا مکمل دفاع تو محبت تو جبر کا انتظار نہیں کیا کرتی۔محبت کے نتیجہ میں تو انسان سب سے پہلے محبت کی چھری سے اپنے آپ کو ذبح کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں پھر وہ پاک تو تیں جوش میں آتی ہیں جن کے نتیجہ میں یہ محبت پاکیزہ راہیں اختیار کرتی ہے اور نیک تبدیلیوں پر منتج ہوتی ہے۔یہ کوئی دنیا کی محبت تو نہیں ہے کہ جو دل میں ولولہ اٹھائے اور جوش دکھائے اور اس کے بعد ختم ہو جائے۔پاک وجودوں کی محبت پاک نتائج پیدا کیا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت چونکہ بچی تھی اس لئے اس محبت کے نتیجہ میں کثرت کے ساتھ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پاک دین کا دفاع کیا۔کثرت کے ساتھ کتابیں لکھیں اور سب دشمنوں کو ذلیل اور رسوا کر دیا۔کثرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے اور درود بھیجنے والے پیدا کئے۔تمام دنیا میں تبلیغ کا جال بچھا دیا اور عیسائی ہونے والے مسلمانوں کا انتقام اس طرح لیا کہ کلیسیاؤں کے گھروں میں اذانیں دلواد میں اور عیسائیوں کو جو بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والا اور آپ کی محبت میں آنسو بہانے والا بناد یا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔یہ محبت کا ہی فیض تھا کہ آپ کو اس مقام پر مامور فرمایا گیا جس مقام پر خدا نے آپ کو مامور فرمانے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ کشف جو آپ کو ماموریت کی وجہ بتا تا ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان فرشتوں کو دیکھتے ہیں جو فرشتے دنیا میں مامور کی تلاش کے لئے بھیجے گئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ کر وہ ٹھہر جاتے ہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہے وہ شخص جو اس زمانہ کا مامور بنائے جانے کے لائق ہے اس لئے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔هَذَا رَجُلٌ يُحِبُّ رَسُولُ الله سب سے زیادہ کا لفظ استعمال نہیں فرمایا لیکن اس میں بھی ایک عظیم خراج ہے گویا ایک ہی شخص ہے يُحِبُّ رَسُولُ اللہ گویا ساری دنیا میں تلاش کیا مگر محبت کرنے والا صرف ایک ہی نکلا۔یہ تو مراد نہیں کہ اس وقت کسی اور کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں تھی مگر آپ کی محبت کو نمایاں کرنے کے لئے ایک نہایت ہی حسین فصیح و بلیغ طریق اختیار فرمایا گیا ہے کہ مسیح موعود کی محبت کو اگر باقی محبتوں کے مقابل پر رکھا جائے تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ محبت ہی کوئی نہیں تھی۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے وہ شعر اس مضمون کو بیان کرتا ہے۔رات محفل میں تیرے حسن کے شعلہ کے حضور شمع کے منہ پہ جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا