ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 209
209 ڈوئی کو ذلیل ورسوا نہیں کر دیا۔یہ ہے محبت۔لیکھرام نے گستاخی کی ، دیکھیں خدا کا یہ شیر کس طرح لکارتا ہوا اس پر ٹوٹ پڑتا ہے اور دعائیں کرتا ہے، اپنے خنجر سے نہیں، اپنی غیرت کو خدا کی غیرت کے خنجر میں تبدیل کر کے اس کو ہلاک کرتا ہے اور اس سارے عرصہ میں خود غم کا شکار رہتا ہے۔یہ ہے کچی محبت اور یہ ہے بچی غیرت اور یہ ہے بچی محبت کا اظہار اور کچی غیرت کا اظہار۔یہ تو کر کے دکھائے کوئی ؟ مگر کسی میں ہوتو کر کے دکھائے۔یہ ہے اسلام کیسی حسین تعلیم ہے کہ انسان کو انسان پر محبت کے دعوی کے نتیجہ میں یا غیرت کے دعوئی کے نتیجہ میں جبر کا اختیار نہیں دیا گیا مگر چونکہ خدا خود ضامن بن گیا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فراست کو دیکھیں کہ اس خدا کی ضمانت کو اکسایا ہے۔فرمایا اے اللہ ! میرے بس میں تو کچھ نہیں تو نے چھوڑا، اگر میرے بس میں ہوتا تو میں ہرگز پرواہ نہ کرتا جو کچھ میری جان پر گزر جاتی میں اس کا انتقام لیتا مگر تیری اعلیٰ اور پاک تعلیم نے مجھ سے یہ قدرت چھین لی۔ہاں میں یہ ضرور دیکھتا ہوں کہ تو عہد کرتا ہے اور بار بار اس عہد کو دہراتا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں اور آپ کے گستاخوں کو میں ذلیل کروں گا اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، میں اس تیرے عہد کی پاک یاد تجھے دلاتا ہوں اور دیکھ میری جان ہلاک ہورہی ہے اس غم میں کہ کیوں تو اس عہد کو پورا نہیں کر رہا۔اس قدر دردناک دعائیں کی ہیں یہاں تک کہ خدا کی غیرت وہ پنجر بن کر اتری جس نے لیکھرام کا پیٹ پھاڑ دیا اور گوسالہ کی طرح اس کے منہ سے وہ آواز میں نکلیں جو اس کی ذلت اور رسوائی کو بڑھانے والی تھیں۔اس پاک تعلیم پر یہ عمل کیوں نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عشق کا تو یہ حال تھا کہ آپ ایک جگہ فرماتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام صفحہ 52,51 پر یہ عبارت ہے۔اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ اس زمانہ میں چونکہ انگریز کی غالب حکومت تھی اس لئے دوسرے مسلمان علماء کو تو نہ یہ تو فیق ملی کہ ارتداد کا کوئی قانون پاس کروا سکیں نہ غیرت رسول ان کی اس طرح جوش میں آئی کہ ان کا مقابلہ کرتے۔وہ ایک شخص جس کو نعوذ بالله من ذلك آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گستاخ قرار دیا جارہا ہے اس کے دل کی یہ آواز ہے، سنیں اور غور سے سنیں ، آپ فرماتے ہیں:۔" کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے۔یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے