ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 208
208 کے لئے بنیاد میں قائم کی جارہی ہیں اور نام رکھا گیا ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے مجبور ہوکر ہم یہ ایک قانون بنا رہے ہیں۔ایک اور پہلو سے بھی آپ دیکھیں تو حقیقی محبت کے تقاضے تو قربانی پیدا کرتے ہیں۔حقیقی محبت کے تقاضے ایک ایسی غیرت پیدا کرتے ہیں جس میں کمزور یا طاقتور کا فرق باقی نہیں رہتا پھر اگر کسی شخص میں کسی شخص کے لئے حقیقی محبت اور غیرت ہے اور اس کا مزاج ایسا ہے کہ وہ اس کی گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔تو جب گستاخی ہو، اس وقت وہ تھانے میں رپورٹ درج کروانے کے لئے نہیں دوڑے گا اور نہ یہ دیکھے گا کہ جو گستاخی کرنے والا ہے وہ طاقتور ہے یا وہ کمزور ہے، میرے ملک کا باشندہ ہے یا کسی اور ملک کا باشندہ ہے۔اگر اس کی جبلت ایسی ہے اس کی سرشت ایسی ہے کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتا تو اس کے عواقب سے بے نیاز ہو کر ایک قدم اٹھالے گا۔انگلستان وغیرہ میں گستاخی رسول "پران غیرت مند مسلمانوں نے کبھی قتل کا منصو بہ نہیں بنایا اب بھی انگلستان میں بارہا ایسے واقعات ہوتے ہیں، ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں، ایسے ریڈیو پروگرام ہوتے ہیں ، ایسی کتابیں چھپتی ہیں جن میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گستاخی کی جاتی ہے اور اس گستاخی پر فخر کیا جاتا ہے کوئی معذرت نہیں ہوتی اور وہ سارے غیرت مند جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم گستاخی برداشت نہیں کر سکتے اور اس گستاخی کی سزا موت ہے اپنے اپنے وطنوں میں آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔ان کے ہمنوا یہاں بھی موجود ہوتے ہیں اور کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔اس کا مطلب ہے کہ یہ غیرت کا دعویٰ جھوٹا ہے۔غیرت کا دعویٰ ہو اور ساتھ یہ بھی شرط ہو کہ غیرت تب دکھا ئیں گے کہ دوسرا شخص انتہائی کمزور ہو اور چڑیا کے بچہ کی طرح ہمارے پنجہ میں آجائے۔اس کی گردن تو ہم مسلیں گے اپنی غیرت کے اظہار کے طور پر۔اگر ہم خود کسی کے پنجہ میں چڑیا کے بچہ کی طرح ہوں گے تو ہم ہرگز غیرت نہیں دکھائیں گے، ہم چوں بھی نہیں کریں گے اس وقت۔یہ کون سی غیرت ہے، یہ کون سی محبت ہے؟ دوسرے غیرت کا سچا تقاضہ تو خود قربانی دینا ہے نہ کہ کسی کو قتل کرنا۔محبت کے نتیجہ میں انسان کا دل کرتا ہے اور در دمند ہوتا ہے۔وہ دردمندی نہ ہو تو محبت کا دعویٰ ہی جھوٹا ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود کا گستاخی رسول کے قانون پر رویہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس کسوٹی پر اس چودہ سو سال میں جس شان سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پورے اُترے ہیں اس کی کوئی نظیر آپ کو نظر نہیں آئے گی۔ادنی سی بھی گستاخی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سے سرزد ہوتی تھی تو آپ کا دل کٹ جاتا تھا، شدید دکھ محسوس کرتے تھے۔جتنے آپ نے غیروں سے مقابلے کئے ہیں ان میں بنیادی وجہ محبت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھی۔امریکہ بیٹھے اتنی دور ڈوئی نے گستاخی کی اور یہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بے قرار اور بے چین ہو گئے اور اس کو مقابلے کا چیلنج دیا اور صرف چیلنج ہی نہیں دیا بلکہ راتوں کو اٹھ کر خدا کے حضور روئے اور گڑ گڑائے اور نہیں چین پایا جب تک کہ خدا کی غیرت کی چھری نے