ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 207 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 207

207 گستاخی کے کلمہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بیان کرتے ہیں اور وہ اس لئے کرتے ہیں تا کہ لوگوں میں اشتعال پیدا ہو کہ فلاں دیو بندی نے یہ کہا ، فلاں دیوبندی نے یہ کہا ، فلاں دیو بندی نے یہ کہا اور ہم کسی قیمت پر بھی اس گستاخی کو برداشت نہیں کر سکتے۔اس قانون کے نفاذ سے مزید قباحتیں پیدا ہوں گی ہمارا تو ایک ولی ہے ہمارا تو ایک مولا ہے یعنی اللہ جو خدا سے ہٹ چکے ہوں ان کا تو کوئی مول نہیں ہوتا۔جہاں تک ہماری حفاظت کا تعلق ہے وہ خدا کے ذمہ ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا کا یہ ذمہ قائم ہے اور انشاء اللہ قائم رہے گا اور خدا کی راہ میں جو تکلیفیں پہنچیں گی ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے اور اس تعلیم کو ہماری فطرت میں رچا دیا گیا ہے کہ ہم بنتے ہوئے صبر و شکر اور رضا کے ساتھ ہر اس تکلیف کو برداشت کریں گے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ہمیں اٹھانی پڑے۔مگر ان کا کیا بنے گا جب یہ آپس میں لڑیں گے۔اس ملک میں اس قدر بدامنی پھیلے گی اس قانون کے نتیجے میں کہ آئے دن فسادات کا محور یہ قانون بن جائے گا کہ فلاں نے گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔مسجد میں جلائی جائیں گی ، گھر لوٹے جائیں گے، عورتیں بیوائیں بنائی جائیں گی ، بچے یتیم کئے جائیں گے محض اس لئے کہ ایک مولوی نے اپنی مخالفت کے نتیجہ میں دوسرے مولوی پر یہ الزام لگا دیا کہ اس نے گستاخی رسول کا کلمہ بولا تھا اور ایسا ملک جہاں سچائی عنقا ہو چکی ہو، جہاں سربراہ سے لے کر ادنی چپڑاسی تک سارے جھوٹ بولتے ہوں اور بے دھڑک بولتے ہوں اور اس میں حیا بھی محسوس نہ کرتے ہوں، جہاں نوے دن کے وعدے کئے جائیں اور نو سال گزرنے پر بھی کہیں ابھی کچھ سال باقی ہیں نوے دن پورے نہیں ہوئے۔وہاں عوام الناس کے جھوٹ کا کیا حال ہو گا۔وہاں عدالتوں میں کیا کارروائیاں ہوتی ہیں؟ کیا یہ بات لوگوں کو معلوم نہیں ہے؟ کیا اہل پاکستان اس سے باخبر نہیں ہیں؟ کوئی دو جھوٹے شخص اکٹھے ہو کر کسی ایک شریف النفس انسان کے متعلق یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ اس نے گستاخی رسول کی تھی۔اب یہ شرعی عدالت کے اوپر منحصر ہے کہ یہ دیکھے کہ دونوں میں کس کا کس فرقے سے تعلق ہے، قطع نظر اس کے کہ ان گواہوں کی کیا حیثیت ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ شخص بشدت احتجاج کرے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو میرے رگ وریشہ میں پیوست ہے، میری جان کا جزو ہے۔ان سب باتوں سے قطع نظر فیصلہ اس بات پر کیا جائے گا کہ الزام کس فرقے پر لگایا جارہا ہے اور الزام لگانے والے کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور حج خود کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں یا ان کی ہمدردیاں کس فرقے سے ہیں اور اس طرح ناموس رسول کے نام پر ہرگز بعید نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق رکھنے والے اور محبت کرنے والوں کو گستاخی رسول کے خنجر سے ذبح کیا جار ہا ہو۔اس سے زیادہ بدامنی کا تصور ممکن نہیں ہے کہ رحمتہ للعالمین کے نام پر دنیا میں ظلم کے چشمے جاری کر دئے جائیں۔سورج کے نام پر دنیا میں اندھیرے اتار دیے جائیں۔یہ ہونے والا ہے اس ملک میں اور یہ ہورہا ہے اس