ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 206
206 اجازت سے استفادہ کرنے کے اہل نہیں ہیں، اگر آج ہیں تو کل نہیں رہیں گے اور ہوسکتا ہے کہ میری ناموس کے نام پر بالکل برعکس نتائج بھی نکالے جائیں یا میرے رسول کی ناموس کی حفاظت کی خاطر گستاخان رسول ، ناموس رسول کی حفاظت کرنے والوں کو سزائیں دینے لگیں۔یہی وہ خطرہ تھا جو آج حقیقت بن چکا ہے پاکستان میں اور دن بدن اس کی بھیانک صورت مزید ظاہر ہوتی چلی جائے گی۔گستاخ رسول کی سز ا در اصل احمدیوں کے خلاف ایک سازش ہے جہاں تک پاکستان کے فرقوں کا تعلق ہے اس میں کوئی بھی شک نہیں کہ آج اس قانون کو پاس کرتے وقت آپس میں انہوں نے یہی باتیں کی ہیں کہ ہم نے تو احمدیوں کو جھوٹا کرنے اور ذلیل کرنے کی خاطر ایک ہتھیار بنایا ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے ہمیں نپٹنے دو۔احمدیوں کی جان، مال اور عزت تمام پاکستان کے مسلمانوں پر اس قانون کے ذریعہ ہم حلال کر دیں گے۔ہر کس و ناکس جو چاہے گا جس عاشق رسول پر جب چاہے گا الزام لگائے گا کہ اس نے نعوذ بالله من ذلك آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کی تھی اور اس کے نتیجہ میں یا اسے موت کی سزادی جائے گی یا اسے بیس سال قید کی سزادی جائے گی اور اگر کوئی خود اپنے ہاتھ میں یہ قانون لے بیٹھے گا تو اسے معمولی سی سرزنش کے بعد معاف کر دیا جائے گا کہ عملاً اس نے قانون کی روح کے مطابق کام کیا ہے۔یہ سازش ہے جو انہوں نے آپس میں پکائی ہے۔مگر اس سازش نے یہاں تو نہیں ٹھہرنا۔انہی فرقوں کا جب آپ جائزہ لیں تو بہت کھلی ہوئی ایسی حقیقت ہے جس پر پردہ ڈالا ہی نہیں جاسکتا کہ بریلوی شدت کے ساتھ اس وہابی فرقے پر جو اس قانون کے بنانے میں سب سے زیادہ عمل پیرا رہا ہے یہ الزام لگاتے رہے ہیں اور آج بھی لگا رہے ہیں کہ تمام اسلامی فرقوں میں سب سے زیادہ گستاخ رسول یہ لوگ ہیں۔بعض جگہ تو ذکر کر کے باقی فرقوں کا پھر نام لیا گیا ہے۔احمدیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے کہ یہ سارے فرقے نعوذ باللہ من ذالک گستاخ رسول ہیں۔لیکن ان کی گستاخی سب سے بڑھ کر ہے اور واقعہ یہ ہے کہ بعض ایسے ایسے کلمات ان کے علماء نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے مناظروں میں استعمال کئے ہیں کہ ان کو پڑھ کر دل دہل جاتا ہے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا شخص ایسی زبان استعمال کر سکتا ہے۔اسے یہاں دہرانا تو مناسب نہیں، یہاں اس کا موقع نہیں ہے لیکن یہ ساری کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں ہیں اور عام عوام میں مشہور بھی ہیں۔ان کے علماء جہاں جہاں جوش دکھاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف وہاں ان باتوں کو بڑی کثرت سے دہراتے ہیں اور لہلہا لہلہا کر دہراتے ہیں۔ہم تو کفر کی بات کو دہراتے ہوئے بھی حیا محسوس کرتے ہیں مگر ان کی تقریریں سنیں بعض ان میں سے ٹیپ ریکارڈ ہو کر میرے پاس پہنچتی ہیں، میرے پاس موجود بھی ہیں۔اس قدر لہک لہک کر بار بار گستاخی رسول کی باتیں دہراتے ہیں ، بکثرت بار بار کہ دل ہلا اٹھتا ہے کہ کاش اب بس کریں اس بات کو ، ایک دفعہ کہہ دیا کہہ دیا اب کیوں بار باراس