ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 205 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 205

205 اپنے ساتھیوں کو مرواتا ہے۔وہ اس لائق نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی کہلائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی جو صفات قرآن میں بیان فرمائی گئی ہیں ان میں سے تو کوئی ایک صفت بھی اس شخص میں پائی نہیں جاتی تھی۔یہ صرف رحمت اور شفقت کا ایک انتہائی اظہار تھا۔فرمایا کہ کہیں یہ نہ کہیں لوگ کہ اپنے ساتھیوں کو مروا دیا کرتا تھا۔اگر قرآن کا کوئی حکم ہوتا ، اگر خدا کا کوئی واضح حکم ہوتا کہ نبی کی گستاخی پر اس کی قوم پر لازم ہے کہ وہ اسے قتل کرے تو کیا اس حکم کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اطلاع نہیں ہوئی تھی اور آج چودہ سوسال کے بعد پاکستان کے ملاؤں کو یہ اطلاع ملی ہے۔یعنی شارع نے تو محمد کو اطلاع دے دی آپ کو اس کا علم بخشا، آپ کو اس کی حکمت عطا فرمائی لیکن آپ تو اس بات کو سمجھ نہیں سکے نعوذ بالله من ذلك اور آج چودہ سو سال کے بعد آج کے ملاں یہ سمجھ گئے کہ نہیں، اصل شریعت یہی ہے اور یہی شریعت کا حکم ہے۔یہ ہے گستاخی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ، اگر گستاخی کی سزا ہے تو ان گستاخوں کو ملنی چاہئے جنہوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے قدم رکھا ہے۔آپ سے آگے تو کوئی قدم نہیں رکھ سکتا لیکن آپ سے آگے قدم رکھنے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ دعوئی ہی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید گستاخی ہے۔پس سب سے پہلے تو ان گستاخوں کو سزاملنی چاہئے جنہوں نے شریعت کے کاروبار اپنے ہاتھوں میں لے لئے اور اپنے آپ کو خدائی کا مقام بھی دے دیا کہ جس طرح چاہیں ہم شریعت میں تبدیلی پیدا کریں۔گستاخیوں کی سزا دینے سے دنیا سے امن اٹھ جائے حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے پہلے جتنے انبیاء تھے ان کے گستاخوں کا تعلق ہے قرآن کریم میں ہر جگہ جہاں جہاں بھی ذکر ملا ہے وہاں خدا کی طرف سے ان کو سزا دینے کے عہد کی تکرار کی گئی ہے اور کسی جگہ بھی بندوں کو اس بات پر مامور نہیں فرمایا گیا کہ اس سزا کے معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے لو۔کیا وجہ ہے جبکہ دوسرے ادنی جرائم کے نتیجہ میں حدود قائم کر دی گئیں کھلی کھلی تعلیم دے دی گئی۔چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، زنا کی سزا سو کوڑے لگانا ہے غرضیکہ اور اس قسم کی حدود قائم فرما دی گئیں ہیں۔اتنے بڑے جرم کے متعلق کوئی سزا مقرر نہیں فرمائی۔اس کے پیچھے حکمت ہے، حکمت یہ ہے کہ اس قسم کی سزا کا اختیار دینا اصلاح کی بجائے فساد کو بڑھانے کا موجب بن جاتا۔جرائم میں ایک بات واقعہ ہوتی ہے اور گستاخی کا جو فعل کسی کی طرف منسوب ہوتا ہے اس میں عملاً کچھ واقعہ نہیں ہوتا بلکہ ہر شخص کو یہ اختیار ہے کہ بجائے کسی واقعہ کا ثبوت پیش کئے کسی کی طرف کوئی گستاخی منسوب کر دے۔دنیا سے امن اٹھ جائے اگر اس قسم کی گستاخیوں کی کوئی بھی سزا مقرر کی جائے۔جتنی سوسائٹی گندی ہواتنا ہی زیادہ بدامنی کا موجب ہو جائے گی یہ سزا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے۔ان کی کمزوریوں پر بھی اس کی نظر ہے۔وہ جانتا ہے کہ خواہ میری یا میرے نبی کی ناموس کی خاطر ان کو اجازت دی جائے مگر ان کے دل اس