ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 204 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 204

204 کو پناہ دینے کا۔ہمارے پرانے دوستوں سے ہمیں الگ کر دیا اور پھر باہر سے آکر ہمارے دوستوں کو ذلیل کیا جارہا ہے، گویا ہمیں ذلیل کیا جارہا ہے۔عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ بات عبداللہ نے کہی لیکن قرآن کریم یہاں جمع کا صیغہ استعمال فرمارہا ہے اور یہ بات بھلا دی جاتی ہے۔فرمایا: يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعُنَا إِلَى الْمَدِينَةِ نہیں فرمایا يَقُول بلکہ فرمایا وہ لوگ کہہ رہے ہیں یعنی ایک سے زیادہ آدمی یہ کہنے لگ گئے تھے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ ایک پورا جتھا تھا۔ابتداء تو عبد اللہ ہی نے یہ بات کہی مگر اس بات میں اتنی طاقت پیدا ہوگئی تھی نعوذ بالله من ذلك كہ وہ بات عام لوگوں میں کہی جانے لگی تھی۔منافقین کا ایک گروہ تھا جو اس بات کو لے اڑے اور یہ کہنے لگ گئے اور کھلم کھلا گستاخی کا کلمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق استعمال کرنے لگے کہ جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو جو ہم میں سے سب سے معزز ہے وہ نعوذ بالله من ذلك آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے ، ہم میں سے جو سب سے ذلیل ہے اس کو مدینہ سے نکال دے گا۔عبد اللہ بن ابی بن سلول کے رویہ پر بیٹے کا اخلاص یہ بات سن کر صحابہ میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور بعض صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی پیشکش کی کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ ہم اسے قتل کر دیں۔یہ تو خیر ایک لمبا واقعہ ہے اس کا دلچسپ حصہ یہ ہے کہ عبد اللہ کا بیٹا اپنے باپ کی طرح منافق نہیں تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر معمولی محبت رکھتا تھا اور اخلاص رکھتا تھا۔اس نے جب یہ باتیں سنیں کہ اتنا بڑا جرم میرے باپ سے سرزد ہوا ہے ، ہوسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قتل کا حکم دے دیں تو وہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میرے باپ سے ایک ایسی بڑی بدبختی ہوئی ہے کہ اس کے نتیجہ میں بعید نہیں ہے کہ آپ اس کے قتل کا حکم صادر فرما دیں۔یہ درست ہوگا، اس فیصلہ پر مجھے کوئی اعتراض نہیں، میری صرف یہ خواہش ہے کہ مجھے حکم دیں کہ میں اپنے باپ کا سرا تار کر آپ کے قدموں میں لا کے رکھ دوں۔ایسی غیرت، ایسی جوش میں آئی تھی اس کے ایمان کی، کہ ایسا عظیم اس نے اخلاص کا نمونہ دکھلایا۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں بھی صبر کی تلقین فرمائی ، اس کے جرم سے اعراض فرمایا اور فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ محمد ایسا نبی تھا کہ اپنے ساتھیوں کو قتل کرواتا رہتا تھا۔عجیب ہے کہ جس کے متعلق خدا بھی گواہی دیتا ہے کہ وہ منافق ہے اور ذلیل ترین انسان ہے۔جس کے منافقوں کا سردار ہونے کے بارے میں بھی کوئی شک نہیں ہے، جس کے متعلق اللہ تعالیٰ متنبہ فرماتا ہے کہ اگر تو اس کے بارہ میں ستر دفعہ بھی استغفار کرے گا تب بھی میں نہیں سنوں گا۔ایسے شخص کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اتنا نرم اور اتنا گداز ہے کہ شدید ترین گستاخی کا مرتکب ہونے کے باوجود، طلب کے ہوتے ہوئے بھی کہ اس کا سر اڑا دینا چاہئے پھر بھی آپ انکار فرماتے ہیں اس کا اور شفقت اور رحمت کی انتہاء دیکھئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگ یہ نہ کہیں