ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 203 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 203

203 ایک منافق کا آنحضور پر سب سے سنگین الزام ان سب کے علاوہ ایک عجیب ذکر قرآن کریم میں یہ بھی ملتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک غزوہ سے لوٹتے ہوئے ایک بدبخت انسان نے دنیا کا سب سے ذلیل انسان کہا۔اتنا شدید لفظ ہے کہ اس سے زیادہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بے عزتی اور گستاخی کا کوئی تصور ممکن ہی نہیں۔قرآن کریم اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: يَقُولُونَ لَئِنْ رَّجَعُنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِ جَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الاَذَلَّ ، وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُون ـ (المنافقون: 9) یعنی وہ یہ کہتے ہیں لَئِن رَّجَعُنَا إِلَى الْمَدِينَةِ اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹیں ليُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الأذل تو مدینہ سے سب سے زیادہ معزز انسان سب سے زیادہ ذلیل انسان کو نکال دے گا اور یہ بھی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت ہے کہ یہاں نام نہیں لیا بلکہ اس الزام کو بغیر واضح کئے اسی طرح پیش فرما دیا۔اس میں حکمت کیا تھی۔اس حکمت کے متعلق واقعہ بھی آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں فرمایا وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ غزوہ بنی مصطلق کے بعد مدینہ واپس آتے ہوئے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا ہوا تھا وہاں حضرت عمر کے ایک غلام کی انصار کے حلیف قبیلہ کے ایک شخص سے تو تو میں میں ہوگئی۔پانی پر عربوں کے جھگڑے چل پڑا کرتے تھے، چھوٹی چھوٹی باتوں پر۔وہ چونکہ انصار کے حلیف قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا اس نے عرب دستور کے مطابق دہائی دی کہ اے انصار میں دہائی دیتا ہوں کہ تمہارے حلیف قبیلے کی بے عزتی ایک ایسے شخص نے کی ہے جو ہما را حلیف نہیں ہے یعنی مکہ کا رہنے والا ہے۔وہ تو مسلمان نہیں تھا۔اس نے تو پرانے عرب طریق کے مطابق اس غیرت کو اکسایا جو عربوں میں معروف تھی اور جس کے نتیجہ میں بڑی تیزی کے ساتھ عرب قبائل مشتعل ہو جایا کرتے تھے۔چنانچہ وہی نتیجہ نکلا۔انصار بڑی تیزی سے اس آواز کو سن کر دوڑتے ہوئے اس پانی پلانے کی جگہ پر اکٹھے ہو گئے اور جب مہاجرین کو پتہ چلا کہ اس طرح انصار اپنے حلیف قبیلہ کی مدد کے لئے پہنچے ہیں تو بطور مسلمان کے نہیں بطور مہاجرین کے وہ حضرت عمرؓ کے غلام کے گرد اکٹھے ہونا شروع ہو گئے اور قریب تھا کہ شدید کشت و خون ہو جائے۔اس وقت بعض صاحب فہم، صاحب ادراک اعلی درجہ کے مومنین نے ہوش سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو سمجھایا کہ تم جاہلیت کی باتوں کی طرف لوٹ رہے ہو۔اسلام اس قسم کی تعلیم نہیں دیتا۔چنانچہ انصار اور مہاجرین کی یہ لڑائی جس کا شدید احتمال تھا اس طرح ٹل گئی۔لیکن اس واقعہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت پر بھی بہت اثر پڑا اور منافقین نے بھی اس سے استفادہ کی کوشش کی۔چنانچہ عبداللہ بن ابی بن سلول جو منافقوں کا سردار تھا وہ بھی اس غزوہ میں اپنے ایک ٹولے کے ساتھ شامل تھا۔اس کو اس سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل گیا اور اس نے یہ باتیں شروع کر دیں کہ دیکھو یہ نتیجہ نکلا ہے غیروں