ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 202 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 202

202 علیہ وسلم تو نبوت کے دعوئی سے پہلے بھی عرب میں امین کہلاتے تھے ، گندے سے گندا دشمن بھی انگلی نہیں رکھ سکتا کہ ایک موہوم سا واقعہ بھی ایسا گزرا ہو جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت پر الزام لگایا جاسکے اور یہ بد بخت دعوی نبوت کے بعد جبکہ امین کو اپنی امانت میں اور زیادہ محتاط ہونا پڑتا ہے پھر یہ الزام لگانے سے نہیں چوکتے تھے کہ نعوذ بالله من ذلك اموال کی تقسیم میں امین نہیں ہیں، خیانت کرنے والے ہیں۔فرمایا ان کا تو یہ حال ہے، یہ کمینے لوگ ہیں، جب ان کو کچھیل جاتا ہے تو راضی ہو جاتے ہیں اور جب نہیں ملتا تو ناراض ہو جاتے ہیں۔ان سے کیا معاملہ کرنا ہے اس دنیا میں اور یہ کہہ کر اس مضمون کو چھوڑ دیا گیا۔ویسے نہ بن جاؤ جیسے موسیٰ کی قوم تھی پھر کچھ اورقسم کے بھی الزام لگاتے تھے جن کا بڑی لطافت سے ذکر فرمایا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات کے متعلق وہ الزام دُہرائے نہیں گئے لیکن ایک ماضی کے شیشہ میں ان کی Reflection دکھائی گئی ہے۔یہ بھی قرآن کی فصاحت و بلاغت کا ایک کمال ہے فرمایا : تأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذَوُا مُوسَى ط فَبَرَّاهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِنْدَ اللَّهِ وَجِيهًا (الاحزاب:70) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ اذَوَا مُوسَى ہرگز ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے موسی کو تکلیفیں دی تھیں۔فَبَراهُ اللهُ مِمَّا قَالُوا اللہ تعالیٰ نے موسی کو ان تمام الزامات سے بری فرما دیا جو اس پر لگائے جاتے تھے۔وَكَانَ عِندَ اللهِ وَجِيهًا اور اللہ کے نزدیک وہ بہت صاحب مرتبت انسان تھا۔حضرت موسی“ پر جو الزام لگائے گئے ان کی تفصیل بائیبل میں ملتی ہے اور وہ کئی قسم کے گندے الزام تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان الزامات کو دُہرانے کی بجائے ایک ماضی کے شیشہ میں ان الزامات کی تصویر اتار دی جو حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس زمانہ میں لگائے جارہے تھے اور مومنوں کو نصیحت فرمائی کہ ویسے نہ بن جانا جیسے موسی کی قوم تھی۔اب ان سب جگہوں میں عجیب بات ہے، صاحب ایمان لوگ مخاطب ہیں اور مسلمان سوسائٹی کا ذکر ہورہا ہے اور عجیب بات ہے کہ ان لوگوں کو نصیحت کی جارہی ہے کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی سے باز رہو۔جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان سوسائٹی کے اندر ایسے منافق لوگ موجود تھے جن کے متعلق مسلمان سوسائٹی کو علم تھا کہ یہ بدخلق لوگ ہیں ، بد تمیز لوگ ہیں اور ان کے ایمان کھو کھلے ہیں اور اس قدر بے حیا ہیں کہ دنیا کے سب سے زیادہ مقدس وجود پر الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے۔ان سب باتوں کا ذکر ہے لیکن ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ ان کا قتل و غارت شروع کر دو، ان کو تباہ کر دو، ان کے گھر لوٹ لو، ان کے اموال چھین لو، ان کو زندہ رہنے کا حق نہ دو کیونکہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر تو کائنات بنائی گئی ان لوگوں کا کیا حق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرطعن کریں اور آپ کو کسی قسم کا دکھ پہنچا ئیں۔