ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 201
پھر فرمایا: 201 ج وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ اذن ( قُل أذلُّ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ هِ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمُ لِيُرَضُوكُمُ : وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ اَحَقُّ اَن يَرْضُوهُ إِن كَانُوا مُؤْمِنِينَ ٥ أَلَمُ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِ دِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ، ذَلِكَ الْخِرَى الْعَظِيمُ۔(التوبه: 61-63) فرماتا ہے وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ اذن اس آیت میں ان اعتراض کرنے والے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے والوں کو جو آپ کے دور میں زندہ موجود تھے جن کا صحابہ کو علم تھا، ان کی نشاندہی مزید فرما دی۔گویا کہ اب یہ ابہام نہیں رہا کہ وہ کون لوگ ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے گستاخی سے پیش آتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے لئے کوئی دنیا کی سزا ایسی تجویز نہ فرمائی جس کا جاری کرنا انسان کے اختیار میں ہو۔بلکہ دوبارہ اس عہد کو دہرایا کہ میں ضامن ہوں ان کا اور میں ان کے لئے غیرت رکھتا ہوں ، میں ان کے لئے سزا تجویز کروں گا اور میں ہی اس سزا پر عمل کرواؤں گا۔فرمایا ایسے لوگ بھی تھے بد بخت جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق عام پرو پیگنڈا کرتے تھے۔هُوَ اذن کہ یہ تو ہر وقت لوگوں کی باتیں سنتا رہتا ہے اور کان کا کچا ہے۔عربی میں محاورہ ہے اذن جس کا مطلب ہے کان ہے، مجسم کان ہے اردو میں ہم کہتے ہیں کان کا کچا ہے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق منافقین یہ کہتے تھے کہ ایسا کان کا کچا ہے نعوذ باللہ من ذالک کہ جو چغلی کھائے اس کی بات سن کر دوسرے پر ناراض ہو جاتا ہے۔ہمارا قصور ہو یا نہ ہو ہمارے خلاف یک طرفہ باتیں سن کر بعض فیصلے صادر فرما دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہاں کان تو ہے لیکن اذن خَيْرٍ لَّكُمُ تمہارے لئے بدی کا کان نہیں بھلائی کا کان ہے۔جب اچھی باتیں سنتا ہے تو بڑی محبت سے جھک کر سنتا ہے اور بہت پیار سے ان کو قبول فرماتا ہے لیکن جب بدی کی باتیں سنتا ہے تو اس کان میں یہ فطرت ہی نہیں ہے کہ ان کو قبول کر لے۔صرف اُڈی خیر ہے اذن بد نہیں ہے۔۔۔آنحضور پر صدقات کھانے اور اپنوں کو دینے کا الزام پھر فرمایا: وَمِنْهُم مَّنْ يَلْمِرُكَ فِي الصَّدَقَتِ ، فَإِنْ أَعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِن لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ (التوبة: 59) ایک اور گروہ کا ذکر فرمایا کوئی طریق ایسا نہیں تھا جو دکھ دینے کا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال نہ کیا گیا ہو۔ایک الزام آپ پر یہ لگاتے تھے کہ یہ نعوذ بالله من ذلك صدقات کھا جاتا ہے یا اپنوں کو دے دیتا ہے اور جن سے تعلق نہ ہو ان کو نہیں دیتا، انصاف سے تقسیم نہیں کرتا۔حیرت انگیز بات ہے آنحضرت صلی اللہ