ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 200
200 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے گن گانے ہیں، ہم حضرت کرشن کے حسن اخلاق پر روشنی ڈالیں گے یا حضرت بابا گرونانک کی اعلیٰ سیرت بیان کریں گے تو پھر وہ لوگ محنت کرتے تھے، توجہ سے، غور سے سیرت کا مطالعہ بھی کرتے تھے اور اس زمانہ میں ان جلسوں کی جو روئیداد موجود ہے، پڑھ کر دل درود بھیجتا ہے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ کیسی عظیم کتاب آپ کو اللہ نے عطا فرمائی، اس کتاب کی روشنی ہی میں یہ ساری روشنی جماعت احمدیہ کو دنیا میں پھیلانے کی توفیق مل رہی ہے۔نہایت ہی پیارا ماحول تھا امن اور آشتی کا اور محبت کا۔ہماری نظر تو اس بات پر رہتی تھی کہ کب کوئی غیر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرے۔میہ دن بھی آج دیکھنے پڑے ہیں کہ جو محبت کرنے والے ہیں ان کے منہ سے بھی تعریف لوگوں کو تکلیف دینے لگی ہے۔عجیب عشق ہے یہ کہ عشق کے سارے پیمانے الٹ دیئے گئے ہیں، عشق کے سارے اسلوب بدل دیئے گئے ہیں۔اب تو عشق کے تقاضے ان لوگوں کے یہ رہ گئے ہیں کہ جس سے ہمیں محبت ہے اس کا تم محبت سے نام لو گے تو ہمیں اتنا طیش آئے گا کہ ہم تمہیں رسوا کریں گے ، ہم تمہیں گلیوں میں گھسیٹیں گے، ہم تمہیں قید کریں گے ، اگر بس چلے گا تو ہم تمہیں خنجر ماریں گے اور جب تک تمہیں ذلیل اور رسوا اور نیست و نابود نہ کر لیں ہمارے دل کو ٹھنڈ نہیں پڑے گی کہ تم نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔قرآن میں انبیاء کی گستاخی کی سزا کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔جہاں تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک یا گستاخی کا تعلق ہے اس ضمن میں بھی قرآن کریم میں آیات موجود ہیں اور کثرت سے آیات موجود ہیں۔صرف آپ ہی کی گستاخی کا ذکر نہیں آپ سے قبل گزشتہ انبیاء کو دکھ دینے کا اور ان کی گستاخیوں کا بھی ذکر ہے۔مگر یہ عجیب بات ان آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے کہ کسی ایک جگہ بھی انسان کو یہ اختیار نہیں دیا کہ ان گستاخیوں کی سزا اس دنیا میں ان گستاخوں کو دے۔گستاخیوں کا ذکر ہے، دل دکھانے کا ذکر ہے، شدید اذیت پہنچانے کا ذکر ہے لیکن ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ اختیار نہیں دیا کہ میرے محبوب بندوں کی گستاخی کے نتیجہ میں تم ان کو سزا دو۔صبر کی تعلیم دی ہے اور یہ وعدہ کیا ہے کہ میں ان کی گستاخی کی سزا دوں گا۔اگر یہ بات تمہیں تسلی نہیں دیتی کہ قیامت کے دن دوں گا تو میں یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس دنیا میں بھی ان کو ذلیل کروں گا اور آخرت میں بھی ذلیل کروں گا لیکن یہ فیصلہ میں اپنے ہاتھ میں رکھوں گا ، اس پر عمل درآمد میں اپنے ہاتھ میں رکھوں گا، تمہیں کوئی اختیار نہیں۔تو جب قرآن اختیار نہیں دیتا تو پھر غیر اللہ کو اختیار کیسے حاصل ہو گیا کہ جو قرآن نے اختیار نہیں دیا وہ اپنے ہاتھ میں لے لیں؟ کسی کو خود سز ا ہاتھ میں لینے کا اختیار نہیں تعلیم ہے اور اس سارے عرصہ میں کہیں بھی بندوں کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ ایسے موقع پر تم فرمانروائی کے اختیار اپنے ہاتھ میں لے لو اور خود میری طرف سے ایسے لوگوں کو سزائیں دینی شروع کرو۔