ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 199
199 کو سچا سمجھتے ہیں، خواہ وہ سچا ہو خواہ وہ جھوٹا ہو، جھوٹے خداؤں سے بدتر وہ بہر حال نہیں ہوسکتا۔زیادہ سے زیادہ اسے ایک جھوٹا خدا کہہ سکتے ہو۔قرآنی تعلیم کے مطابق ہم ہرگز اس ملک میں اجازت نہیں دیں گے کہ کسی مذہب کے راہنماء کسی مذہب کے سردار، کسی مذہب کے بانی کی کسی رنگ میں بھی بے عزتی کی جائے کیونکہ اس کے نتیجہ میں یہ خدشہ ہے کہ ہمارے آقا ومولا حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جذبات مشتعل ہو جائیں اور کوئی گستاخی کا کلمہ منہ سے نکل جائے۔اگر فطرتا دیکھیں تب بھی یہی قانون ہے جو دراصل کام کر سکتا ہے اور محبت کے تقاضوں کو اگر کسی طرح کوئی قانون پورا کر سکتا ہے تو یہی قانون ہے جو پورا کر سکتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ جس سے پیار ہو، جس سے محبت ہو، انسان یہ تو نہیں چاہتا صرف کہ وہ اس کے خلاف منہ سے کچھ نہ بولے اور دل میں اس کو گالیاں دیتا ر ہے۔دل کی گالیوں کو کیا کریں گے۔جب تک ان موجبات اور محرکات کو دور نہ کریں جو دل میں اشتعال پیدا کرتے ہیں اور دلوں میں گالیاں بناتے ہیں۔تو جس سے سچا عشق ہو اس کی خاطر انسان ہر وہ کام کرتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں اس محبوب کی دشمنی کم ہو جائے۔شریفانہ تہذیب کی حدود کے اندر آ جائے۔جس کے بعد مخالفت گالی گلوچ پر منتج نہیں ہوا کرتی۔ایسی حیرت انگیز تعلیم ہے کہ اگر آج اسے دنیا اپنا لے تو مذہبی لحاظ سے ساری دنیا میں امن کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔جماعت کی طرف سے پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد یہی وجہ ہے کہ قادیان میں جماعت احمدیہ کی طرف سے پیشوایان مذاہب کے جلسوں کا انعقاد کیا گیا۔اس زمہ میں ہندو اکثریت کے علاقوں میں جہاں صرف یہی نہیں کہ ہندو اکثریت میں تھے بلکہ عیسائی راج ہونے کی وجہ سے عیسائیوں کی بھی زبانیں کھلی ہوئی تھیں ،سکھ بھی بعض علاقوں میں بڑے متشدد تھے اور وہ ان محدود علاقوں میں مسلمانوں پر غالب اکثریت بھی رکھتے تھے۔بعض علاقوں میں بدھ غالب تھے، بعض علاقوں میں اور دیگر مذاہب کے لوگ غالب تھے۔جس طرح چاہتے وہ اسلام کی ہتک کرتے اور رسول اسلام کے خلاف گستاخی سے پیش آتے تھے اور کتاب اللہ کی بے عزتی سے بھی نہیں چوکتے تھے اور اسلام کے خدا کا بھی تمسخر اڑاتے تھے۔جماعتی کاوشوں سے ہندوستان میں بانیان مذاہب کی عزت کا دن منایا جانے لگا جماعت احمدیہ کو چونکہ اللہ اور رسول اور کتاب اور ملائکہ اور ان سب مقدس باتوں سے حقیقی پیار تھا جو ہمارے ایمان کا جزو ہیں اس لئے وہی ترکیب سوجھی جماعت احمدیہ کے خلیفہ کو جو قرآن نے سکھائی تھی ، وہی اصول تھا جو قرآن سے لیا اور اس کی روشنی میں ایک لائحہ عمل طے کیا گیا اور تمام ہندوستان میں بانیان مذاہب کی عزت کا دن منایا جانے لگا۔مسلمان دوسرے مذاہب کے بزرگوں کی تعریف کرتے تھے اور دوسرے مذاہب کے بزرگ مسلمان بزرگوں کی تعریف کرتے تھے اور ایسا لطف آتا تھا کبھی عیسائی کے منہ سے کبھی ہندو کے منہ سے، کبھی سکھ کے منہ سے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیرت کا کلام سن کر روح وجد میں آجاتی تھی اور جب ان سے کہا جاتا تھا کہ آپ نے