ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 198
198 دنیا کے کیڑے مکوڑے جنہیں خدا بنا دیا گیا ہو۔دونوں صورتوں میں اگر گالیاں کھانے کا حق ہے تو ان کا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو بھی گالیاں نہیں دینی اور یہ گالیاں نہ دینے کی وجہ اللہ کی محبت بیان فرمائی۔کیسا گہرا فلسفہ ہے، کیسی گہری حکمت ہے جو محبت کے پس منظر میں کارفرما ہے اور محبت کی سچائی کا مظہر بن جاتی ہے۔اگر کسی کو اللہ سے محبت ہے تو اس کی محبت کی خاطر غیر اللہ کو بھی گالیاں نہ دے کیونکہ اگر غیر اللہ کو گالیاں دے گا تو اشتعال پیدا ہوگا اور غیر اللہ اس کے بدلے میں اس کے پیارے، اس کے محبوب آقا کو گالیاں دینے لگے گا۔کیسی عجیب تعلیم ہے کہ اللہ کی ناموس کی حفاظت غیروں کی ناموس کی حفاظت کے ذریعہ کرائی جارہی ہے۔اس سے زیادہ شاندار، اس سے زیادہ عالمگیر امن کی متحمل تعلیم کا تصور ہی ممکن نہیں اور جس چیز کو اولیت ہے اسے اولیت دی جارہی ہے۔رسول کی عزت تو خدا سے بنتی ہے۔رسول کا وجود تو خدا کی محبت کے نتیجہ میں متشکل ہوتا ہے۔اگر خدا کی محبت نہ ہوا اور خدا کی عزت اور خدا کا احترام نہ ہو تو رسالت کا کوئی وجود نہیں ہے۔پس قرآن کریم نے جہاں ناموس کا ذکر فرمایا اور اس کی خاطر دل آزاری سے روکا وہاں اللہ کی ذات کو پکڑا جو ہر چیز کی بنیاد ہے، جو ہر روح کا سر چشمہ ہے اور ہر سچائی اس سے پھوٹتی ہے، سب عزتیں اس سے پیدا ہوتی ہیں اور اس کے سوا کوئی بھی حقیقت نہیں۔ناموس رسول سے زیادہ اللہ کی ناموس ہے جس کا اس قانون میں کوئی ذکر نہیں پس یہ قانون مجھے عجیب لگا کہ ناموس رسول کی باتیں تو ہورہی ہیں مگر وہ رسول مجس کا سارا وجود اللہ کی ناموس کے قیام کی خاطر تھا جس کی ساری محبتیں اللہ کی خاطر تھیں اس رسول کے محبوب کا کوئی ذکر ہی نہیں۔اس آقا ومولیٰ واحد خدا کی عزت و احترام کے لئے کوئی قانون نہیں اور پھر اس آیت سے یہ حکمت بھی نہ سیکھی کہ اگر قرآنی تعلیم کی روشنی میں اور قرآنی اصول کی روشنی میں تم حقیقتا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے ہوئے آپ کے احترام کا قیام چاہتے ہو تو اس طرح بات شروع کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل پر جتنے بھی غیر مذاہب کے انبیاء موجود ہیں، مقابل پر ان معنوں میں کہ آج کل کی دنیا میں مقابل پر ہیں ورنہ حقیقت میں تو کوئی بھی نبی دوسرے نبی کے مقابل پر نہیں ہوا کرتا۔مگر آج کے زمانہ میں دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ، بچے مذاہب تو الگ رہے جن کو تم یقیناً جھوٹا سمجھتے ہو ان کے سربراہوں کی بھی عزت کی تعلیم دو، ان کی ناموس کے متعلق قانون پاس کرو، اس بناء پر کہ تمہیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے اور تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کہیں کوئی شخص کسی مذہب کے راہنما کا دل دکھائے اور اس کے نتیجہ میں وہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرنے پر آمادہ ہو جائے۔یہ ہے قرآنی تعلیم ، یہ ہے اس کا عالمگیر حسن۔اس کی کوئی مثال دنیا میں کہیں نظر نہیں آسکتی۔کسی مذہبی رہنما کو بے عزت کرنے کا قانون پہلے پاس ہونا چاہیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ اگر سچا ہے تو قرآنی اصول کے مطابق پہلے یہ قانون پاس ہونا چاہئے کہ اس ملک میں ہم کسی مذہب کے رہنما کو بے عزت کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس رہنما