ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 197 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 197

197 ناموس رسالت کا قانون اور اس کی شرعی حیثیت پاکستان میں توہین رسالت پر قانون سازی کے موقع پر حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے 18 جولا ئی 1986ء کو ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں قرآن کریم کے حوالہ سے اسلامی تعلیم بیان فرما کر جماعت احمدیہ کی طرف سے جہاں رد عمل ظاہر فرمایا۔وہاں احباب جماعت کو اس حوالہ سے اسلامی تعلیم سے آگاہ بھی کیا۔آپ فرماتے ہیں:۔" آج کل پاکستان میں اس قسم کا ایک نیک دعوی کیا جارہا ہے۔عشق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین نام پر اور اس دعوئی کے نتیجہ میں ایک قانون بھی اس ملک میں پاس کیا گیا ہے جو ناموس رسول کی حفاظت کا قانون ہے۔بیان یہ کیا گیا ہے کہ ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا عشق ہے کہ آپ کی کسی قسم کی بھی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے جو بھی ایسی گستاخی کا مرتکب قرار پائے اسے موت کی سزا دی جائے یا کم سے کم عمر قید کی سزا دی جائے۔اس دعویٰ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ قرآن اور سنت کی روشنی میں یہ فیصلہ جو بھی اختیار کیا گیا ہے اس کی کیا حیثیت ہے۔اس پہلو سے جب میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو سب سے پہلے تو میری توجہ اس آیت کی طرف مبذول ہوئی جس کی میں نے آج کی آیات میں سے پہلے تلاوت کی تھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوّام بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ من ثُمَّ إِلى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَه کہ اے وہ لوگو ! جو ایمان لانے والے ہو! اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامو! جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو اگر تم ایسا کرو گے تو اس کے ردعمل میں مشتعل ہو کر وہ تمہارے بچے خدا کو بھی گالیاں دینے لگیں گے۔اس طرح اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کے اعمال حسین کر کے دکھاتا ہے جبکہ واقعہ وہ حسین نہیں ہوتے اور حقیقت میں تمہارے اعمال کا فیصلہ تو اسی وقت ہو گا جب تم خدا کے حضور لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں مطلع فرمائے گا کہ تمہارے اعمال کی حیثیت کیا تھی۔گویا یہ فیصلہ کہ نیتیں صاف تھیں یا نہیں ، دعوے سچے تھے یا جھوٹے تھے اور ان کے نتیجہ میں حسین اعمال پیدا ہوئے یا بد اعمال نے جنم لیا، اس فیصلہ کا دن قیامت کا دن مقر فر مایا گیا اوراس فیصلہ کا اختیار اللہ تعالی، نے اپنے ہاتھ میں لیا۔لیکن جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے وہ بالکل واضح ہے اور حیرت انگیز تعلیم ہے کہ سب سے پہلے اللہ کی عزت اور احترام کے قیام کے لئے ی تعلیم دی گئی کہ ان جھوٹے خداؤں کو بھی گالیاں نہ دو جن کا یا تو وجود کوئی نہیں یا وہ خواہ مخواہ خدا کی خدائی پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور قابل نفرت وجود ہیں۔دونوں صورتوں میں خواہ وہ فرضی خدا ہوں یا (الانعام: 109)