ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 192
192 زیادہ زور تلاوت قرآن کریم کے اوپر ڈالیں۔ایک محدث یا فقہیہ تھے (مجھے یاد نہیں رہا امام بخاری تھے یا دوسرے) ان کے متعلق آتا ہے کہ رمضان کا جب مہینہ شروع ہوتا تھا تو ساری کتابیں بند کر کے رکھ دیتے تھے اور صرف قرآن کو پکڑ لیتے تھے ، سارے رمضان میں سوائے قرآن کریم کے اور کچھ نہیں پڑھتے تھے۔خطبات ناصر جلد 9 صفحہ 166-167) احباب جماعت میں بدعات آنے پر غیرت اسلامی کا اظہار حضرت خلیفتہ مسح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 13 مارچ1981ء میں احباب جماعت کو مخاطب ہو کر فرمایا۔اصسیح یہ بدعات نہ گھنے دیں اپنے اندر۔ورنہ میں مجبور ہوں گا کہ اپنے اندر سے آپ کو نکال دوں۔اگر آپ بدعات میں ملوث ہونا چاہتے ہیں تو جماعت احمدیہ کی حدود سے باہر نکل کے ہوں شامل ، جماعت احمدیہ میں رہ کر نہیں۔آپ اس قسم کی بدعات میں آہستہ آہستہ خرابی ہو کے وہ حشر ہو گیا اسلام کا کہ آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔قرآن کریم نے وارننگ (Warning) دی تھی ، انتباہ کیا تھا وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمُ مُّشْرِكُونَ (يوسف: 107 ) کہ ایسے لوگ بھی امت مسلمہ میں پیدا ہو جائیں گے کہ جو ایمان کا دعوی بھی کریں گے اور شرک کی حرکات والے اعمال بھی بجالا ئیں گے۔قبروں پر سجدے ہو گئے ، ادھر منہ کر کے نمازیں پڑھنی شروع کر دیں نا سمجھ لوگوں نے لیکن ان کے لئے کوئی عذر تھا۔کوئی ان کو ڈانٹنے والا سمجھانے والا ، کوئی پیار سے ان کو راہ راست کی طرف لانے والا نہیں تھا۔یہ قصہ ختم ہو گیا ہے اب۔اب تو مہدی آگئے۔اب تو مہدی کے نائبین کا، خلفاء کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اور جب تک خدا چاہے اور ہماری دعا ہے کہ خدا قیامت تک یہی چاہے یہ سلسلہ جاری رہے اور امتِ مسلمہ نوع انسانی کی شکل میں خالص اسلام پر قائم رہتی ہوئی اس دنیا میں ایک جنت پیدا کرنے والی اور اس دنیا کی جنت کے پھل کھانے والی ہو۔آمین۔خطبات ناصر جلد 9 صفحہ 53) خلاف اسلام حرکتیں کرنے والوں کے لئے دعا کرو حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 26 مارچ1976 ء میں فرماتے ہیں:۔اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ تم خدا کو نہ مانو تو اس کو یہ کہنا چاہئے کہ ہمارے ہادی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو نمائندہ اس زمانہ میں ہے اُس نے تو مجھے یہ سبق دیا ہے کہ قرآن کریم کے ایک حکم کی بھی بغاوت کرو گے تو تم خدا کے غضب کی جہنم خریدو گے مگر ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُسی سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ تم یہ کہو ہم قرآن کریم کے کسی حکم کو نہیں مانتے اور نہ ہم تمہیں یہ دُکھ دیں گے اور وہ دُکھ دیں گے۔یہ تو گویا ایک صریحاً جبر ہے جو اس وقت ہمیں نظر آنے لگا ہے، لیکن نہ جبر کے مقابلے میں ہمیں جبر کی اجازت ہے اور نہ جبر کے مقابلے میں ہمیں بددعا کرنے کی اجازت ہے۔