ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 193 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 193

193 ہمیں حکم ہے کہ اس قسم کی جب خلاف اسلام حرکتیں دیکھو اور قرآن کریم میں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے اس عظیم اعلان کے خلاف باتیں دیکھو تو تم ایسے لوگوں کے لئے دُعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کی ہدایت کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ اُن کو بھی هُدًى لِلنَّاس اور بَيِّنَةٍ مِّنْ الْهُدی میں جن زبر دست دلائل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اُن کو سمجھنے اور اُن سے فائدہ اُٹھانے اور اپنے نفوس کو اُن کے ذریعہ منور کرنے اور نوع انسانی کے لئے نور اور برکت اور خیر کے سامان پیدا کرنے کی توفیق عطا کرے اور اُن سے پہلے ہمیں عطا کرے کیونکہ لَا يَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُم (المائدة: 106) سب سے زیادہ ہم محتاج ہیں کہ شیطان ہمارے نفسوں پر حملہ نہ کرے۔شیطان ہمیں بے راہ نہ کر دے۔شیطان ہمیں اللہ سے دُور نہ لے جائے۔شیطان ہمارے دلوں میں اس محبت کو قائم رکھنے میں روک نہ بنے جو محبت کہ ہمارے دلوں میں مہدی علیہ السلام نے پیدا کی ہے اور یہ محبت جو ہمارے دلوں میں خدا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن عظیم کے لئے پیدا کی گئی ہے ، خدا کرے اس میں کبھی ذرہ بھر کی واقع نہ ہو بلکہ یہ محبت بڑھتی ہی چلی جائے۔اور یہ نو را تنا پھیلے کہ ساری نوع انسانی کو اپنی لپیٹ میں لے لے اور ساری دُنیا کو اپنے احاطہ میں لے لے اور سب لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں۔اسلام کے نام پر جو جبر کا دھبہ لگا ہے وہ یکسر اور ہمیشہ کے لئے مٹادیا جائے اور آئندہ قیامت تک کسی کو یہ کہنے کی جرات نہ ہو اور نہ ہی وہ اسلام پر یہ الزام لگا سکے کہ اسلام جبر کی کسی رنگ میں بھی اجازت دیتا ہے۔" خطبات ناصر جلد 6 صفحہ 364-365) اللہ کے خلاف باغیانہ خیالات رکھنے والے اللہ کے مطیع بندے بن جائیں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے یکم اپریل 1966ء کے خطبہ جمعہ میں اپنے رب کے حضور ایک دعا کی ہے جو اپنی ذات میں آپ کی دینی غیرت کا اظہار کر رہی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔"اے خدا! تو ہم پر ایسا فضل کر کہ آسمان سے فرشتوں کی افواج نازل ہوں اور بنی نوع انسان کے دلوں پر ان کا تصرف ہو جائے حتی کہ وہ ان دلوں کو تبدیل کر دے تا تیرا جلال اور کبریائی ، تیری عظمت اور تیری تو حید دلوں میں پیدا ہو جائے اور وہ جو آج تیرے خلاف باغیانہ خیالات رکھتے ہیں وہ تیرے مطیع بندے بن جائیں اور اے خدا! جیسا کہ تیرا وعدہ ہے غلبہ اسلام کے دن ہمیں جلد دیکھا، تاہم تمام اکناف عالم میں لا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللَّهِ کی صدا سننے لگیں اور تمام بنی نوع انسان اپنے محسن حقیقی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے لگیں۔خدا کرے کہ اس کے سامان جلد پیدا ہو جا ئیں۔" خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 201-202)