ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 190
190 احمدیت کے اندر اسلام کا درد ہے حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمع 18 اگست 1972ء میں فرماتے ہیں " ہماری جماعت ایک ایسی جماعت ہے جس کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آ جائے۔اسلام کے مقابلے میں تمام ادیان باطلہ مٹ جائیں۔سارے اندھیرے جاتے رہیں۔اسلام کا نورساری دنیا میں پھیل جائے۔لوگ اپنے اپنے کاموں میں مگن ہیں کسی کو اسلام کی اشاعت کا فکر نہیں اور نہ اسلام کا درد ہے۔یہ جماعت احمد یہ ہی ہے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے اس لئے ہمارا فکر اور ہمارا تدبر ہمارا پڑھنا اور ہماراسنا ، ہمارا سونا اور ہمارا جا گنا اسلام کی ترقی کے لئے وقف ہے۔لیکن دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے۔دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے ملک کے حاکموں کے مقابلے میں۔دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ طاقتور ہے پاکستان کے مقابلہ میں، اس لئے وہ اسے مٹانا چاہتا ہے۔غرض اس وقت کئی خیالات ہیں جو لوگوں میں چکر لگارہے ہیں۔" خطبات ناصر جلد 4 صفحہ 347-348) پھر آپ خطبہ جمعہ 25 مارچ 1966ء میں فرماتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جس غرض کیلئے مبعوث فرمایا تھا وہ یہ تھی کہ تمام دنیا میں اسلام کو غالب کیا جائے اور تمام اقوام عالم کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے سو جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مامور کر کے دنیا کی طرف مبعوث فرمایا تو آپ نے اعلان فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس غرض کے لئے بھیجا ہے کون ہے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے ؟ جس کے دل میں اسلام کا درد ہے وہ میری طرف آئے اور اس کام میں میرا ممد اور معاون ہو۔تب ہم نے "نَحْنُ أَنصَارُ الله " کا نعرہ لگاتے ہوئے آپ کی طرف دوڑنا شروع کیا اور آپ کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے اور ہم نے عہد کیا کہ جس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مبعوث ہوئے ہیں۔اس غرض اور مقصد کے حصول کے لئے آپ کے ساتھ مل کر ہم کوشش کرتے رہیں گے۔خطبات ناصر جلد نمبر 1 صفحہ 188) غلبہ اسلام کیلئے جسموں کے قیمہ بنائے جانے کیلئے بھی تیار ہیں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 8 فروری 1974 ء میں فرماتے ہیں۔" دعاؤں کے ساتھ دعاؤں میں مشغول رہ کر ان دُعاؤں کو بھی پڑھتے ہوئے اس طریق پر جو میں نے بتایا اور اپنی زبان میں بھی ہر شخص اپنے فہم اور اپنی قوت کے مطابق اپنے علم اور اپنی فراست کے مطابق خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور ایک چیز سامنے رکھے کہ غلبہ اسلام کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اگر ہمارے