ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 189
189 اس خدا کو نہیں چھوڑ سکتے۔حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سے دُوری ہم اپنے لیے موت سمجھتے ہیں اور مہدی علیہ السلام کی جماعت سے باہر نکلنے کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ٹھیک ہے گردن پر چھری رکھ کر بعض لوگوں سے انکار بھی کروا دیا لیکن یہ بھی درست ہے کہ انکار کروانے والوں کی طرف سے ہمیں اطلاع بعد میں ملی اور وہ روتے ہوئے ہمارے پاس پہلے پہنچ گئے کہ مجبوری تھی اس لیے اعلان کر دیا۔ہم نے کہا ٹھیک ہے خدا تمہیں معاف کرے گا۔کوئی فکر نہ کرولا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا (الزمر: 54) کا اعلان ان حالات کے لیے بھی کیا گیا ہے۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ دنیا میں ایک فساد برپا ہے۔نوع انسانی کے لیے دعائیں کرنا جماعت احمدیہ کا کام ہے بلکہ اس کا یہ فرض ہے۔حضرت مہدی علیہ السلام نے جماعت کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا میں دُنیا کی فلاح و بہبود کے لیے اور اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کے لیے آیا ہوں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اسلام کے دو حصے ہیں ایک اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا کرنا اور دوسرا بنی نوع انسان کے حقوق کو ادا کرنا۔ظاہر ہے نوع انسانی میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خدا تعالیٰ کے منکر اور اس کو گالیاں دینے والے اور اُس کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے علی الاعلان کہا کہ وہ زمین سے خدا کے نام کو اور آسمانوں سے اُس کے وجود کو مٹادیں گے خدا نے ہمیں کہا تم اُن کے لیے بھی دعائیں کرو۔اس لیے ہم ان کی ہدایت کے لیے بھی دعائیں کرتے ہیں کیونکہ وہ لوگ خدا کے حقیقی پیار سے محروم ہیں۔دنیا کی یہ عارضی ترقیات تو کوئی معنی نہیں رکھتیں انسان نے پہلی دفعہ تو یہ ترقی نہیں کی، اصطلاحاً بڑے بڑے "فراعنہ "دُنیا میں پیدا ہوئے اور ان میں ایک وہ بھی تھا جس کا نام بھی فرعون تھا جس کی قوم بڑی شاندار اور مہذب کہلاتی تھی دُنیا میں اُس نے بڑا رعب قائم کیا مگر کہاں گئے وہ لوگ ؟ اور کہاں گئیں سرمایہ دارانہ حکومتیں؟ ایک وقت میں سرمایہ دار دنیا پر چھائے ہوئے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ انسان کے اوپر سوائے سرمایہ داری کے اور کوئی چیز حکومت نہیں کر سکتی۔وہ پیچھے چلے گئے دوسرے نمبر پر کمیونزم آ گیا۔یہ بھی پیچھے چلا جائے گا۔صدیوں کی بات نہیں۔دوست میری بات یا درکھیں۔یہ صدیوں کی بات نہیں درجنوں سالوں کی بات ہے کہ اشتراکی نظام بھی پیچھے چلا جائے گا اور پھر دوسری طاقتیں آگے آجائیں گی اور ایک وقت میں وہ بھی پیچھے چلی جائیں گی۔پھر خدا اور اس کا نام لینے والی جماعت، حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی جماعت، قرآن کریم کے احکام کا سکہ دنیا میں قائم کرنے والی جماعت اور اسلام کا جھنڈا دنیا کے گھر گھر میں گاڑنے والی جماعت آگے آئے گی اور پھر اس دنیا میں اُخروی جنت سے ملتی جلتی ایک جنت پیدا ہوگی اور ہر انسان کی خوشی کے سامان پیدا کئے جائیں گے اور تلخیاں دور کر دی جائیں گی اور مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کا انسان اپنی زندگی کی شاہراہ پر خدا تعالیٰ کی حمد کے ترانے گاتے ہوئے آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے قرب اور اُس کے پیار کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرتا چلا جائے گا اور اس طرح وہ اپنی زندگی کے آخر میں اپنی منزل ، اپنے مقدر یعنی خاتمہ بالخیر تک پہنچ جائے گا۔یہ عمل نسلاً بعد نسل رونما ہوگا اور پھر قیامت آ جائے گی۔" خطابات ناصر جلد 2 صفحہ 10-12 )