ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 188 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 188

188 انہیں آسمانی نشانات سے بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اس میں ہم قریبا قریباً کامیاب ہو چکے ہیں۔" خطبات ناصر جلد 4 صفحہ 384-387) محبت رسول حضرت محمد کا باغی بن کر عزت حاصل نہیں ہو سکتی ناموس رسالت کی حفاظت اور اس پر حملوں کے دفاع میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت عقیدت کے پھول نچھاور کرنا ضروری ہے اور اس حوالہ سے اپنے دل کے جزبات کا اظہار ضروری ہے یہاں چند ایک ایسے اقتباسات پیش کئے جارہے ہیں جس میں حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ نے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار فرمایا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 30 اپریل 1976 ء میں فرماتے ہیں۔اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسلام کے دامن کو چھوڑ کر اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا باغی بن کر عزت حاصل کرے گا تو یہ اس کی غلطی ہے اور یہ سمجھنا بھی اس کی غلطی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ غلطی ہے کہ اس کے بعد پھر وہ احمدیت کے ساتھ وابستہ بھی رہ سکتا ہے۔مجھے کسی نے بتایا کہ بعض احمدی کہلانے والے صوبائی اسمبلیوں میں اچھوتوں کی اور غیر مسلموں کی جو الیکشن ہوگی اس میں حصہ لینے کی خواہش رکھتے ہیں۔میں نے کہا ان کی یہی خواہش بتاتی ہے کہ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، یہ خواہش بتاتی ہے کہ ان کے دل میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی پیار نہیں، یہ خواہش بتاتی ہے کہ اگر کبھی وہ اسلام کا نام اپنے اوپر چسپاں کرتے تھے اور خود کومسلمان کہتے تھے تو اب وہ خود ہی غیر مسلم بن گئے ہیں اور اعلان کر رہے ہیں کہ اُس پاک وجود سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جس نے مہدی کی بشارت دی اور جس کے حکم پر ہم مہدی پر ایمان لائے۔تو پھر ایسے شخص کا اسلام کو چھوڑنے کے بعد اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ نے کے بعد مہدی علیہ السلام یا اُس کی جماعت سے تعلق کیسے رہ گیایا وہ مہدی کی جماعت کا فرد کیسے؟" خطبات ناصر جلد 6 صفحہ 415-416) حضرت محمد مصطفیٰ سے دوری ہم اپنے لئے موت سمجھتے ہیں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ انتقامی خطاب جلسہ سالانہ 12 دسمبر 1976ء میں فرماتے ہیں ایک احمدی ہی ہے جس کا ایک زندہ تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے محبوب مہدی علیہ السلام کے طفیل اپنے زندہ خدا سے ہے۔یہ چیزیں اس زمانہ میں پھر مہدی نے ہمیں دیں۔ہم اس مہدی کو چھوڑ کر کہاں جا سکتے ہیں۔جس نے زندہ خدا سے ہمیں متعارف کروایا۔جس نے ہمیں اسلام کی وہ راہیں بتا ئیں جن کے نتیجہ میں خدا سے ہمارا زندہ تعلق پیدا ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے پیار کے زندہ جلوے ہم نے اپنی زندگیوں میں دیکھے ہم