ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 187
187 چاہتا تھا نہ یہ میرا مقام ہے۔میں نے بڑے وثوق سے اُن کے لیڈر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس کا جواب میں نہیں دوں گا۔یہ دیں گے۔کوئی کہہ سکتا تھا کہ میں نے ایسا کر کے خطرہ مول لیا تھا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔وہ دل میں خواہش پیدا کرتا ہے اس کو پورا بھی کرتا ہے۔چنانچہ اُن کا لیڈ ر اس پادری سے کہنے لگا۔تم غلط کہتے ہو، یہ ٹھیک کہتے ہیں۔پس عیسائیوں کو بھی حضرت مسیح کا ابن آدم ہونا تو ماننا پڑ گیا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ ادیان باطلہ کے ساتھ ہماری دلائل کی جو جنگ تھی اُسے ہم نے قریب قریباً جیت لیا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہم نے یہ جنگ پوری جیت لی ہے۔ہم نے یہ جنگ دلائل کے میدان میں جیت لی ہے۔بعض لوگ ہیں فیصد احمدی ہو چکے ہیں۔بعض پچاس فیصد احمدی ہو چکے ہیں ، بعض ساٹھ فیصد احمدی ہو چکے ہیں۔غرض غلبہ اسلام کی راہ میں روک بننے والی دو بنیادی طاقتیں تھیں۔ایک ادیان باطلہ کی مجموعی طاقت۔چنانچہ جب اسلام کا سوال پیدا ہو تو یہودی اور عیسائی ایک بن جاتے ہیں۔جب اسلام کا سوال نہ ہو تو عیسائی یہودیوں سے کہتا ہے تم نے خداوند یسوع کو صلیب پر لٹکا دیا تھا۔تم سخت ظالم ہو لیکن جس وقت اسلام کا سوال ہو تو اس وقت یہودی اور عیسائی ایک ہو جاتے اس وقت یہودی۔عیسائی اور آریہ ایک ہو جاتے ہیں۔دوسرے سب مذاہب والے ایک ہو جاتے ہیں۔جس وقت اسلام کا سوال ہو تو مذہب اور فلسفہ ایک ہو جاتے ہیں یعنی ایک فلسفی بڑے آرام سے اسلام پر وار کر دیتا ہے مگر دوسرے مذاہب پر وار کرنے کی متحدہ جرأت نہیں کرتا۔گو اس کی دلیل غلط ہوتی ہے یہ ہم مانتے ہیں۔یہ رجحان اب آہستہ آہستہ دور ہورہا ہے۔مذہبی دلائل کے میدان میں ہم نے اُن کو لا جواب کر دیا ہے۔یہ جنگ ابھی شدت سے جاری ہے۔اور ان کو حلقہ بگوش اسلام کرنا ابھی رہتا ہے۔لیکن ہمیں اس کی فتح کے آثار نظر آ رہے ہیں۔تاہم یہ جنگ مزید 20-25 سال تک جاری رہے گی۔اسلام کے خلاف دوسری طاقت لامذہبیت یعنی دہریت کی تھی جسے اشتراکیت بھی کہتے ہیں۔یہ لوگ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر لامذہبیت کے نام پر انسانی معاشرہ کو خوشحال بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ہمارے نز دیک اسلامی ہدایت اور قرآنی شریعت کو چھوڑ کر انسانی معاشرہ نہ حقیقی طور پر خوش حال بن سکتا ہے اور نہ با اخلاق اور باخدا بن سکتا ہے۔یہاں تک کہ دُنیوی لذتوں کا جتنا احساس ایک مسلمان کو ہے اتنا اُن کو نہیں ہے۔ہم اس وقت ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ جس طرح نشاۃ اولی میں اسلامی ترقی کے چوتھے دور میں پہلے تو کسریٰ اور بعد میں قیصر کے ساتھ مقابلہ تھا۔اسی طرح ہمارا بھی پہلے مذاہب کے ساتھ اور اب لامذہبیت یعنی دہریت کے ساتھ مقابلہ ہے۔اس کے لئے ہمیں دو ہتھیار ملے ہیں ایک دلائل کا ہتھیار اور دوسرا آسمانی نشانات یعنی معجزات کا ہتھیار چنانچہ اس دور کے پہلے حصہ میں ہم دلائل پر زور دیتے رہے ہیں۔کیونکہ جن لوگوں کے ساتھ پہلے ہمارا مقابلہ تھا وہ مذہب کو ماننے والے تھے اس واسطے ہم انہیں اسلام کا قائل کرنے کیلئے عقلی اور نقلی دلائل قاطعہ دیا کرتے تھے جن کا وہ جواب نہیں دے سکتے تھے۔دلائل کے علاوہ