ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 186 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 186

186 اب اسی نوے فی صد مسلمان یہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ غلطی کرتے تھے جو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے تھے۔بمشکل دس بیس فی صد لوگ ایسے رہ گئے ہیں جو حیات مسیح کے قائل ہیں۔ان میں سے بھی ایک حصہ ایسا ہے جو مانتا تو ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں لیکن وہ اس بات کا اعلان کرنے کے لئے تیار نہیں۔تا ہم ایک وقت آئے گا کہ وہ لوگ بھی وفات مسیح کا اقرار کر لیں گے۔دوسری طرف عیسائی کہتے ہیں کہ مریم کا بیٹا ( علیہ السلام ) آسمان پر زندہ ہے اور خدا کے دائیں ہاتھ بیٹھا خدائی کر رہا ہے، تین مل کر ایک بن گئے ہیں یعنی تثلیث عیسائیوں کا بنیادی عقیدہ ہے، حالانکہ بائیل نے حضرت مسیح کو SON OF MAN ( سن آف مین ) یعنی ابن آدم کہا ہے۔یہ بڑی موٹی بات ہے پھر بھی آدمی حیران ہوتا ہے کہ اس کے باوجود عیسائی حضرت مسیح کو خدا مانتے ہیں۔آخر وہ ان کی خدائی کو کس طرح اور کس دلیل کی بناء پر مانتے ہیں۔عیسائیوں نے بائیل میں دجل کر کے جو حصہ ملایا ہے وہ علیحدہ ہے۔اس کے باوجود بائیل نے کئی جگہ حضرت مسیح کو ابن آدم کہ کر پکارا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ڈنمارک میں ایک عیسائی پادری نے بدتمیزی کی تھی۔اس نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف بات کی تھی۔اس کا میں نے جو جواب دیا تھاوہ ان کے لئے پریشان کن تھا۔میں نے اپنے جواب میں جان بوجھ کر حضرت مسیح کے لئے ابن آدم کا لفظ استعمال کیا تھا۔وہ چونکہ پڑھے لکھے اور ہوشیار لوگ ہیں اس لئے وہ فوراً سمجھ گیا اور بڑا تلملایا کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا کہ ابن آدم کے معنے وہ نہیں جو آپ سمجھتے ہیں۔میں نے اس کو جواب دیا ( دوست یا درکھیں کہ ایسے وقت میں اپنی جگہ کو بالکل نہیں چھوڑ نا چاہئے ) کہ ابن آدم کے معنے سوائے ابن آدم کے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتے۔اس واسطے تمہارا یہ کہنا غلط ہے کہ میں ابن آدم کے جو معنے سمجھتا ہوں وہ درست نہیں۔سن آف مین یعنی ابن آدم کے معنے ابن آدم ہی کے ہوتے ہیں۔اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ تو ہماری مذہبی اصطلاح ہے۔میں نے کہا میں جانتا ہوں۔یہ تمہاری مذہبی اصطلاح ہے لیکن دُنیا کے سارے علوم اور دُنیا کے سارے مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ کسی لفظ کے یا کسی جملے کے اصطلاحی معنے لغوی معنے کو محدود کرتے ہیں، اس میں وسعت پیدا نہیں کرتے۔اس لئے یہ نہیں ہو سکتا کہ لغت کوئی اور معنے کر رہی ہو اور اصطلاحی معنے کچھ اور ہوں۔مثلاً گھوڑا ہے۔اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔عربی میں گھوڑے کے کئی سونام ہیں۔اب ایک خاص قسم کا گھوڑا ہے ( جس کا ایک خاص نام ہے ) تو اس کے متعلق اگر کوئی کہہ دے کہ یہ گھوڑا نہیں ، اس کے معنے گدھے کے ہیں تو ایسا نہیں ہوسکتا۔گھوڑا ، گھوڑا ہی رہے گا گدھا نہیں بن جائے گا۔اسی لئے ساری دُنیا کے عالم اور مذہبی لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ اصطلاحی معنے لغوی معنوں کو محدود کرتے ہیں ان میں وسعت پیدا نہیں کرتے۔اس لحاظ سے ابن آدم کے معنے ابن آدم ہی کے ہوتے ہیں یعنی اس کا مفہوم کچھ محدود ہو جائے گا۔ابن آدم سے بڑھ کر کچھ نہیں بنے گا۔جب اُس نے یہ کہا تو چونکہ اس کے ساتھ کج بحثی نہیں کرنا