ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 185 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 185

185 میں آپ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے لئے بلاتا ہوں۔وہ راہیں جن پر چل کر آپ نے اپنے رب کو پایا اور جس کے نتیجہ میں آپ کو دونوں جہان کی نعمتیں ملیں ان پر آج بھی آپ کے قدموں کے نشان موجود ہیں۔ان نقوشِ پا کی پیروی کریں۔اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ خدا کی محبت جیتنے والے ہوں گے اور آپ اس کی وہ آواز سننے والے ہوں گے جو آپ کو تسلی دے گی۔" جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو " اس فانی دنیا کی غیر حقیقی خوشیوں اور مسرتوں کا مقابلہ خدا کی محبت سے نہیں کیا جا سکتا۔میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ آپ خدا کی محبت کے حصول کے لئے کوشاں ہوں۔وہ دروازہ صدیوں سے لاکھوں دستک دینے والوں کے لئے کھولا جاتا رہا ہے۔آپ کیوں مایوس ہوتے ہیں کہ یہ آپ کے لئے کھولا نہ جائے گا۔آگے آئیں اور مسیح موعود کے جانشین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اسلام قبول کریں کیونکہ اسلام میں ہی آپ کی اور آپ کی آنے والے نسلوں کی بھلائی ہے۔اگر آپ اس آواز پر دھیان نہ دیں گے تو ایک خطرناک تباہی آپ کی منتظر ہے۔وہی تباہی جس کے متعلق آج سے گیارہ سال قبل میں نے آپ کو خبر دار کیا تھا" (ضمیمہ خالد جون 1978 ء صفحہ 31-32) ڈنمارک کے پادری کی اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی اور حضور کا چیلنج حضرت خلیفہ امسح الثاث رحمہ اللہ خطبہ جمہ کی تمبر 1977ء میں فرماتے ہیں " حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں ایک جگہ ایک بڑا ہی عجیب فقرہ لکھا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک وہ وقت تھا کہ پادری ہر نکڑ پر اور ہر چوراہے پر کھڑے ہو کر مسلمانوں پر آوازے کسا کرتے تھے کہ کہاں ہیں وہ اسلام کے معجزات جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دکھائے تھے۔وہ ہمارے سامنے پیش کرو۔مگر اب یہ حال ہے کہ وہی پادری میرے ساتھ جو محد صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہوں، مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔غرض دلائل کے میدان میں اہل مذہب کی پسپائی کا دور آپ علیہ السلام کی زندگی میں شروع ہو گیا تھا۔اب مثلاً وفات مسیح کا مسئلہ ہے۔اندرونی طور پر مسلمان کہلانے والوں کے ساتھ ایک وقت میں یہ ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔اس مسئلہ پر بڑی سر پھٹول ہوا کرتی تھی۔بڑی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔اسی بناء پر قتل کی کوششیں ہوئیں کہ ہم حضرت مسیح علیہ السلام ( جو ایک عاجز انسان تھے ان کو آسمان پر زندہ کیوں نہیں مانتے ؟ اس مسئلہ پر لوگ ہمارے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے۔وہ ہمیں کہتے تھے تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے۔ایک طرف عیسائی تھے۔وہ ہمیں کہتے تھے کہ تم اُس مسیح کو خدا کیوں نہیں مانتے اور دوسری طرف مسلمان کہہ رہا تھا تم اسے آسمان پر زندہ کیوں نہیں مانتے۔حالانکہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک عاجز انسان تھے جو ماں کے پیٹ کے اندھیروں میں نو مہینے رہنے کے بعد اس دُنیا میں پیدا ہوئے تھے وہ نہ تو خدا بن سکتے تھے اور نہ اس جسم کے ساتھ آسمان پر زندہ رہ سکتے تھے۔چنانچہ ہم نے حیات مسیح کے عقیدہ کے خلاف عقلی اور نقلی اور تاریخی دلائل کے ذریعہ لوگوں کولا جواب کر دیا۔