ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 184
184 چرچ ہیں) عیسائیت کے بنیادی عقیدہ کفارہ پر کاری ضرب لگانے کے لئے جماعت احمدیہ نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا۔جو اپنی ذات میں ایک بہت بڑا اور عظیم واقعہ ہی نہیں بلکہ حیرت انگیز اور انقلاب انگیز باب ہے۔یہ کانفرنس کامن ویلتھ انسٹی ٹیوٹ آف لندن کے آڈیٹوریم میں 2-3-4 جون 1978ء کو بعنوان مسیح“ کی صلیبی موت سے نجات منعقد ہوئی۔اس تاریخی کا نفرنس میں احمدی سکالرز کے علاوہ عیسائی اور ہند و سکالرز بھی شامل تھے۔سب سے بڑھ کر جماعت احمدیہ کے امام حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا رونق افروز ہونا تھا۔اس کانفرنس میں تمام احمدی سکالرز کو اسلام کا حقیقی پیغا مختلف انداز میں پہنچانے کی توفیق ملی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے بہت پیار بھرے انداز میں اسلام کی حقانیت ثابت فرمائی اور حضرت مسیح ناصری کی صلیب سے نجات اور کفن مسیح پر مذہبی اور تاریخی رنگ میں روشنی ڈالی۔آپ کے خطاب کا ایک ایک لفظ اسلام کے زندہ ہونے اور حرمت رسول کے اعلان کا منہ بولتا ثبوت تھا۔آپ نے فرمایا:۔میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی عاجزی اور پیار کے ساتھ یہ پیغام پہنچا تا ہوں۔خوش ہوا اور خدا کی حمد کے ترانے گاؤ کہ مسیح جس کے ظہور کی خبر صحف سابقہ میں اور قرآن کریم میں دی گئی تھی اور جس کے ظہور کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ روحانی فرزند ظاہر ہو چکا ہے۔میں جو آپ کے سامنے کھڑا ہوں اور آپ سے مخاطب ہوں اس کا نائب اور تیسرا خلیفہ ہوں۔میرے دل میں آپ لوگوں کے لئے کچی ہمدردی اور محبت کا ایک سمندر موجزن ہے۔مجھے آپ کی تکلیف اور دکھ نے بے چین اور مضطرب کر رکھا ہے۔آپ کا اصل دکھ اپنے رحمان اور رحیم رب کی معرفت کی کمی ہے۔میں آپ کو اس بچے واحد خدا کی طرف بلاتا ہوں جس نے ہماری تمام ضروریات ہماری پیدائش سے بھی قبل مہیا فرما ئیں اور ہماری کچی خوشحالی کے سامان پیدا فرمائے۔اس نے ہمارے قومی اور ہماری طاقتوں کی نشو ونما کے لئے تمام ضروری سامان مہیا فرمائے تا کہ اس کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے میں ہمیں کوئی کمی نہ رہے، لیکن ہم نے ناشکر گزاری کا ثبوت دیا اور جو کچھ ہمیں امن اور سکون قائم کرنے کے لئے دیا گیا تھا اس کو ہم نے فساد اور تباہی لانے کے لئے استعمال کیا۔جو کچھ ہمیں اپنی صحت اور اپنی ذہنی اور اخلاقی اور روحانی سربلندی کے لئے عطا ہوا تھا اس کا ہم نے غلط استعمال کیا۔اور اس طرح ہم خدا سے دور ہو گئے اور تباہی کے عمیق غاروں میں جا پڑے۔اب بھی وقت ہے کہ ہم رک جائیں اور اپنے رب کو پہچان لیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔وہ ہمارے تمام گناہ اور ہماری تمام خطائیں بخش دے گا۔وہ ہمیں محبت کے ساتھ اپنی طرف اٹھائے گا اور ہمیں اپنی رضا کی جنتوں کی طرف لے جائے گا۔ہمارے اپنے آنسو اور خدا سے ملنے کے لئے ہمارے دلوں کی تڑپ ہی ہمارا کفارہ ہیں۔ہمیں کسی اور کفارہ کی ضروت نہیں۔میں آپ کو خدائے واحد لاشریک کی طرف رجوع کرنے اور اس کی اطاعت میں اپنی گردنیں جھکانے کی تلقین کرتا ہوں کہ اسی میں آپ کی بھلائی ہے۔