ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 183 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 183

183 تمہارے ساتھ نفرت اور حقارت کا سلوک نہیں کرے گا۔اسلام کی یہ اتنی عظیم تعلیم تھی اور اس کے خلاف اتنے عظیم منصوبے باندھے گئے چنانچہ جب ہم ان منصوبوں کی تفصیل میں جاتے ہیں تو ہمیں ان کی عجیب شکلیں نظر آتی ہیں۔یسوع مسیح کوخدا کا بیٹا کہنے پر غیرت (خطبات ناصر جلد سوم صفحہ 411,405) حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 25 مارچ 1966ء میں فرماتے ہیں: پھر انگلستان ہے، امریکہ ہے، ان کے رہنے والوں کی بڑی اکثریت اگر چہ زبان سے خدا تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ ایک اور لعنت میں گرفتار ہے۔اس نے انسان کے ایک بچے کو خدا تسلیم کر لیا ہے اور وہ نہیں سمجھتی کہ وہ ہستی جو ایک عورت کے پیٹ میں نو ماہ کے قریب نہایت گندے ماحول میں پرورش پاتی رہی ہو اس کو انسانی عقل ، خدا کیسے تسلیم کر سکتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دینی لحاظ سے بالکل اندھے ہیں کوئی معقول دلیل ان کے دماغ میں نہیں۔بہر حال انہوں نے ایک انسان کی جس کو وہ خدائے یسوع مسیح کہتے ہیں پرستش شروع کی اور اس سے اتنی محبت اور پیار کیا کہ اپنی تمام دنیوی طاقتیں اس گمراہ عقیدہ کے پھیلانے میں خرچ کر دیں اور وہ جوان کا حقیقی رب تھا اور وہ جو ان کا سچا نجات دہندہ تھا یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ان کی طرف وہ متوجہ نہ ہوئے۔انہوں نے اپنی تمام طاقت، اپنا سارا زور، اپنے تمام حیلے اور ہر قسم کا دجل خدا تعالیٰ کی اس سچی تعلیم اور صداقت کے خلاف استعمال کرنا شروع کر دیا جو بنی نوع انسان کی بھلائی کیلئے بھیجی گئی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے قبل بہت حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے۔لیکن جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو دلائل حقہ دیئے، منجزات اور روشن نشانات بھی عطا فرمائے تو اس وقت ان کی ترقی دجل کے میدان میں کافی حد تک رُک گئی لیکن ابھی بہت سا کام کرنے والا باقی ہے۔غرض ہمارا دعویٰ ہے اور اپنے رب سے ہمارا عہد ہے کہ ہم ایک دن ان تمام اقوام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار کر کے چھوڑیں گے۔خطبات ناصر جلد 1 صفحہ 190-191) بین الاقوامی کسر صلیب کا نفرس اور مسیح ناصری کی صلیب سے نجات کے حوالے سے اعتراضات کا جواب 1978ء تاریخ احمدیت کا وہ روشن اور تابناک سال ہے جس کے وسط میں عالمی شہرت کے حامل شہر اور عیسائیت کے مرکز لندن ( جو عیسائیت کا بہت بڑا گڑھ ہے اور جہاں عیسائیت کے متعلق بین الاقوامی اور عالمی نوعیت کی بہت بڑی بڑی کا نفرنسیں ہوتی ہیں ، جہاں گلی گلی ، کوچہ کوچہ، اور ہر علاقہ میں عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے کلیسیا اور