ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 182
182 شرف انسانیت کی آواز اٹھانے پر آنحضور کی مخالفت۔۔۔۔۔غرض جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آواز اٹھائی کہ انسان ، انسان میں کوئی فرق نہیں ہے تو دشمنانِ اسلام نے سمجھا کہ ہم تو مارے گئے ہم بڑی طاقت رکھتے ہیں اور اپنی اس طاقت کے بل بوتے پر اپنے آپ کو دوسروں کی نسبت زیادہ ارفع اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ہمارے دماغ میں برتری کے خیالات رچے ہوئے ہیں اگر ہم سب برابر ہو گئے تو ہم تو مارے گئے۔بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حبشی بلال اور ابو جہل برابر ہو گئے؟ یہ تو نہیں ہوسکتا چنانچہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مساوات انسانی کی اس عظیم آواز کے اٹھانے پر دنیا مخالف ہو گئی۔جب آپ نے عزت انسانی کی آواز اٹھائی ( جو دراصل مساوات ہی کا ایک پہلو ہے ) اور فرمایا سب لوگوں کی عزت کرنی پڑے گی۔خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی آدمی حقیر نہیں ہے ورنہ خدا تعالیٰ پر یہ اعتراض آتا ہے کہ اس نے حقیر انسان بھی پیدا کیا ہے حالانکہ اسلام کہتا ہے کہ جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ خدا کی نگاہ میں حقیر نہیں ہو سکتا اور جو خدا کی نگاہ میں حقیر نہیں ہوسکتا وہ خدا کے بندوں کی نگاہ میں بھی حقیر نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عزت انسانی کی یہ آواز اٹھائی تو مخالفین نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تم ہمیں اس بات سے روکتے اور منع کرتے ہو کہ ہم دوسرے لوگوں کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے نہ دیکھیں یہ نہیں ہو سکتا۔ہم طاقت رکھتے ہیں اور تمہیں کچل کر رکھ دیں گے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق جب یہ فرمایا کہ ہرفرد کی برابری اور اس کی عزت کے قیام کے بعد جہاں تک ممکن ہو ( یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ ابتلاء بھی آیا کرتے ہیں ) انسانی قوتوں اور استعدادوں کونشو ونما کے کمال تک پہنچنا چاہئے تو مخالفین اسلام نے کہا کہ یہ بات تو ہمارے اموال لوٹنے کے مترادف ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ انہیں جو مال و دولت ملی ہے یہ اللہ کی عطا کردہ نہیں بلکہ اسے انہوں نے اپنی محنت کوشش اور عقل کے استعمال کے علاوہ دوسروں کی مدد سے اکٹھا کیا ہے۔ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اس میں سے خدا کے بندوں پر خرچ کرو۔یہ تو نہیں ہوسکتا۔پس یہ دو عظیم نعرے تھے۔ایک توحید کے قیام کا نعرہ اور دوسرا حقوق انسانی کے قیام کا نعرہ حقوقِ انسانی کے قیام کے نعرہ میں بنیادی طور پر دو چیزیں تھیں ایک مساوات انسانی اور شرف انسانی کا نعرہ اور اعلان اور دوسرے انسانی قوی اور استعداد کی کامل نشو و نما کا نعرہ اور اسلام نے مسلمانوں کو حقوق انسانی کے قیام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں قیادت بخشی ہے۔خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھ عطا کی ہے اور ہمارے لئے ایک کامل اور مکمل تعلیم اتاری ہے اور ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ اس تعلیم کے ذریعے ساری دنیا میں ایک Revolution ( ریوولوشن ) یعنی ایک انقلاب بپا کر دو۔قوموں کی زندگی ان کے خیالات اور فکر و تدبر کی کایا پلٹ کر رکھ دو اور اس طرح ثابت کر دو کہ انسان، انسان برابر ہیں۔یہی پیغام میں افریقہ کے دورے میں لوگوں کو دے کر آیا ہوں کہ اب وہ دن چڑھ گیا ہے کہ آئندہ کوئی انسان