ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 181 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 181

181 منصوبے کئے گئے وہ صبر سے کام لے رہے ہوں گے وہ گالیاں سن کر دعا دے رہے ہوں گے۔انہیں زہر دیا جائے گا اور وہ میٹھا شربت پلا رہے ہوں گے۔ان کے لئے قحط کے سامان پیدا کئے جارہے ہوں گے اور جب وقت آئے گا تو یہ قحط دور کرنے کے سامان پیدا کریں گے۔مسلمانوں کو اغوا کیا جائے گا اور اسلام اغوا کے سارے راستوں کو بند کر رہا ہو گا۔مسلمان مخالفین کے ہر مکر کا جواب صبر اور تقویٰ کی راہوں پر چل کر اور دعا کے ساتھ دے رہے ہوں گے۔مگر اندھی دنیا سمجھے گی کہ اس بے کس قوم کا کوئی سہارا نہیں ہے لیکن بینا آنکھ اور وہ جس کی آنکھ ہمیشہ ہی کھلی رہتی ہے اور جو علام الغیوب ہے وہ کہے گا کہ تم صبر کرو۔وقت آنے پر تم دیکھ لو گے میں کیا کرتا ہوں۔فرماتا ہے إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ گیدا و اکید گیدا یعنی میں اپنی منشاء اور مرضی کے مطابق اپنی تدبیر کروں گا جو اپنے وقت پر ظاہر ہوگی۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک عرصہ ایسا آئے گا کہ میرے ماننے والے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے فدائی دنیا کی نگاہ میں بے سہارا ہوں گے لیکن میں ان کا سہارا ہوں گا اور میں ان سے کہوں گا کہ میں تمہارا سہارا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے متبعین کے خلاف یہ منصوبے اس لئے کئے جائیں گے کہ وہ خدا کے بندوں کو توحید خالص کی طرف بلا رہے ہوں گے اور انہیں ان کے انسانی حقوق دلوار ہے ہوں گے اور إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُم کا عظیم نعرہ بلند کر کے وہ یہ کہ رہے ہوں گے کہ انسان، انسان میں کوئی فرق نہیں ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان کسی ماں نے نہ اب تک جنا اور نہ آئندہ جن سکتی ہے۔ایسا عظیم الشان وجود جو اللہ تعالیٰ کا حقیقی محبوب ہے اور باقی ہر ایک نے اسی کے طفیل خدا کی محبت کو پایا ہے اس کی زبان سے یہ عظیم کلمہ نکلوادیا کہ میں تمہارے جیسا انسان اور تم میرے جیسے انسان ہو۔جب یہ مساوات اور برابری کا عظیم الشان اعلان ہوا تو مکہ کے سرداروں نے کہا کہ یہ کہاں کی آواز اٹھی ؟ کیا ہم اور ہمارے غلام برا بر ہیں ؟ کیا ہمارا قبیلہ جو خانہ کعبہ کا محافظ ہے یہ اور عرب کے دوسرے قبائل برابر ہو گئے؟ کیا عرب کے رہنے والے اور حبشہ اور دوسرے افریقی ممالک کے رہنے والے برابر ہو گئے؟ یہ کیسی آواز ہے؟ ہم تو اسے نہ سمجھ سکتے ہیں، نہ اسے برداشت کر سکتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے اس پاک اور بلند اور عظیم آواز کے خلاف منصوبے بنانے شروع کر دیئے جن کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنی طاقت کے زور سے اپنی برتری کو قائم رکھیں گے اور مساوات کو قائم نہیں ہونے دیں گے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے رب کا یہ فرمان ہے کہ اس نے ہر انسان کو پیدا کیا اور اس کے اندر تمہیں جو بھی قوت اور استعداد نظر آتی ہے وہ اس کی پیدا اور عطا کردہ ہے اور فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہر فرد واحد کی تمام قوتوں کی نشو ونما کو کمال تک پہنچایا جائے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے رب العالمین کی حیثیت سے ہر فرد واحد کی تمام قوتوں اور استعدادوں کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس مادی اور غیر مادی چیز کی ضرورت تھی وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی ہے۔انسان کی قوتیں اور استعداد میں جسمانی بھی ہوتی ہیں اور اخلاقی اور روحانی بھی ہوتی ہیں۔ان قوتوں اور استعدادوں کی نشو ونما کے کمال تک پہنچنے کے وسائل اور ذرائع مادی اور غیر مادی دو حصوں میں منقسم ہوتے ہیں۔۔۔۔