ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 180
180 گروہوں میں اتحاد کی ضرورت تھی۔پھر اس میں مسلمانوں کو عقلاً سمجھایا گیا تھا کہ تم اس وقت اختلافات کو زیر بحث نہ لا ؤ اور جو عقائد اور عادات اور روایات اور بدعات کی وجہ سے اختلافات پیدا ہو گئے ہیں اُن کو بھول جاؤ کیونکہ جو مسئلہ ہمارے سامنے ہے ، وہ اختلافی نہیں ہے۔وہ اسلام کی عزت کی حفاظت کا سوال ہے۔کوئی مسلمان یہ کبھی نہیں کہہ سکتا اور نہ اس کے دل میں یہ خیال ہی پیدا ہو سکتا ہے کہ جہاں اسلام کی عزت اور اس کی حفاظت کا سوال ہو وہاں اختلاف بھی ہوسکتا ہے۔غرض آپ نے عالم اسلام پر یہ واضح کیا کہ یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس میں کوئی اختلاف ہو، اس لیے ایک ایسے مسئلے میں جس میں اختلاف کی نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ اختلاف کا کوئی تصور پیدا ہوسکتا ہے ، تم ایسے مسائل کو بیچ میں کیوں گھسیٹتے ہو جو اختلافی ہیں۔اس وقت تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب متحد ہو کر عزت و حفاظت اسلام کی خاطر قربانیوں کے لئے تیار ہو جائیں۔" خطبات ناصر جلد 5 صفحہ 259-261) اسلام اور حضرت محمد کے خلاف منصوبوں کا رڈ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 11 دسمبر 1970ء میں فرماتے ہیں۔" قریشِ مکہ نے بھی مسلمانوں کے خلاف منصوبے کئے۔عرب کے دوسرے قبائل جن کی لاکھوں کی تعداد تھی انہوں نے بھی بعض چھوٹے چھوٹے قبائل کو اپنے ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف منصوبے باندھے۔پھر یہود کی سازش ساتھ مل گئی۔یوں سمجھنا چاہئے کہ اس وقت کی دنیا کا Spear Head (سپئیر ہیڈ ) یعنی نیزہ کی آنی جو تھی وہ اسلام کے خلاف نظر آتی تھی پھر پیچھے تو نیزے کا پھل یا دو پھلہ کہنا چاہئے یعنی کسری اور قیصر کی شوکت اور دنیوی طاقت اسلام کے مقابلے پر آئی لیکن نیزے کی انسی جو تھی وہ کفار مکہ یا عرب کے دوسرے قبائل کے حملہ آور ہونے کی شکل میں ظاہر ہوئی۔چنانچہ انہوں نے منصوبے کئے اور ہر قسم کے منصوبے کئے۔قرآن کریم میں سورۂ طارق میں اسی طرف اشارہ ہے فرمایا انهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وہ مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں گے۔داؤ بیچ سے کام لیں گے۔ان سے ہم انہیں نہیں روکیں گے۔ویسے اللہ تعالیٰ کو تو یہ بھی طاقت ہے کہ کسی کو منصوبہ ہی نہ کرنے دے لیکن اگر اللہ تعالیٰ اپنی اس قدرت کو ظاہر کرے تو پیار کے وہ جلوے جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دکھانا چاہتا ہے یعنی اس کی حفاظت کے جلوے، اس کی قدرتوں کے جلوے، اس کے حسن واحسان کے جلوے دنیا کس طرح دیکھے؟ مخالفین تو دیکھ لیں گے لیکن دنیا کو نظر نہیں آئیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخالفین اسلام جو بھی مکر اور سازش کرنی چاہیں وہ کریں میں انہیں اس سے نہیں روکوں گا بلکہ اس میں انہیں مہلت بھی دوں گا لیکن جب ان کی سازشیں زور پکڑیں گی تو میں ابھی کچھ عرصہ اپنی قدرت نہیں دکھاؤں گا اور اپنے کمزور بندوں سے کہوں گا کہ تم صبر اور دعا سے کام لو چنانچہ خدا کے بندوں کے خلاف جب بھی