ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 179 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 179

179 ممالک سے بہت سے وعدے کیے اور اس طرح اپنے وعدوں کی آڑ میں مسلمانوں کی طاقت کو کمزور کیا اور دوسری طرف یہودی دولت کی لالچ میں اُن سے وعدے کیے۔ان ہر دو وعدوں میں تضاد تھا جو 1948 ء میں اسرائیل کی حکومت کے قیام کی شکل میں ظاہر ہوا۔اس وقت حضرت مصلح موعودؓ نے الكُفُرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ کے نام سے ایک مضمون میں (جو بعد میں ٹریکٹ کی صورت میں شائع بھی کر دیا گیا تھا ) مسلمانوں کو یہ بتایا کہ ان کے خلاف ایک خطرناک منصو بہ بنایا گیا ہے۔اب وقت ہے کہ مسلمان متحد ہو جائیں اور اس طاقت کو جو مستقبل میں بڑی بن سکتی ہے اور کسی وقت خطر ناک شکل اختیار کر سکتی ہے اس کو شروع ہی میں پھل دیا جائے۔چنانچہ آپ نے اپنے مضمون میں تمہید بتایا کہ کس طرح یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کے جینا نہ اور ظالمانہ منصوبے بنائے۔آپ کو قتل کرنے اور صلح کے بہانے گھر پر بلا کر چکی کا پاٹ کو ٹھے پر سے گرا کر مارنے کی سازشیں کیں وغیرہ۔پھر اس کے بعد آپ فرماتے ہیں:۔یہی دشمن ایک مقتدر حکومت کی صورت میں مدینہ کے پاس سراٹھانا چاہتا ہے شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے۔جو مسلمان یہ خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں اس کا دماغ خود کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں۔اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلافات کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہوگیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے؟ ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا۔۔۔۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یا درکھیں کہ آج اُسی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ الـكـفـرُ مِلَّة وَاحِدَةٌ لفظ بلفظ پورا ہورہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہر بیل کر اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فرداً فردا یورپین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا جن میں اختلاف نہیں نہایت ہی بے وقوفی اور جہالت کی بات ہے۔الْكُفْرُمِلَّةٌ وَاحِدَةٌ صفحه 4 تا 7) پس یہ وہ زبر دست اختباہ ہے جو اس فتنہ کے آغاز میں کیا گیا تھا یعنی 1948ء میں جب کہ اسرائیل کی حکومت معرض وجود میں آئی تھی۔اس میں ایک عظیم منصوبے کی طرف رہنمائی کی گئی تھی جس کے لئے تمام مسلم اقوام اور مسلم