ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 178 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 178

178 صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے خدا، قرآن کریم اور اسلام کے خلاف لوگوں نے استعمال کیا ہے۔غرض یہ دو بڑی بڑی ایذاء رسانیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور ان کی جماعتوں کو زبان اور تحریر کے ذریعہ پہنچائی جاتی ہیں۔یہ دکھ دہی کے دو حربے ہیں جو الہی جماعتوں کے خلاف استعمال کئے جاتے ہیں۔چنانچہ ان کا سب سے زیادہ استعمال اس محسنِ انسانیت کے خلاف رونما ہوا جو افضل الرسل تھا اور ابدی صداقتوں پر مشتمل ایک عظیم ہدایت لے کر بنی نوع انسان کی طرف مبعوث ہوا تھا۔جس نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ اس میں یعنی قرآن کریم میں تمہاری عزت اور شرف کا سامان ہے۔پس یہ امر بڑا حیران کن ہے کہ بعض لوگ اس چیز سے بے اعتنائی برت رہے ہیں اور اس کی طرف توجہ نہیں کرتے جو اُن کے لئے عزت اور شرف کا سامان بہم پہنچاتی ہے۔محمد کو ساری دنیا میں غالب کرنے والی جنگ لڑنی ہے خطبات ناصر جلد 4 صفحہ 481-482) حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 18 اگست 1972 ء میں فرماتے ہیں پس ہمارے ہر چھوٹے اور بڑے خصوصاً نو جوانوں کو یہ بات کبھی بھولنی نہیں چاہئے کہ آج دنیا میں ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر و حضرت محمد رسول اللہ کی خاطر اور اسلام کو ساری دنیا پر غالب کرنے کی خاطر جو جنگ لڑنی ہے وہ کوئی معمولی جنگ نہیں ہے وہ بڑی زبر دست جنگ ہے۔دہریت (جسے ہم اشتراکیت اور کمیونزم بھی کہتے ہیں ) دنیا کی آدھی آبادی بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ حصے پر چھائی ہوئی ہے۔دوسری طرف مذہب کے نام پر زندہ رہنے والی قو میں خواہ کتنی ہی کمزور ایمان والی کیوں نہ ہوں یا بد مذہب جن میں کسی نبی کی تعلیم کا ایک معمولی ساعکس نظر آتا ہے اور اسے بھی وہ اب بھول چکے ہیں لیکن بہر حال وہ لامذہب نہیں کہلا سکتے۔( بدمذہب کی اصطلاح نئی نہیں ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے استعمال فرمایا ہے۔انہوں نے آدھی دنیا کی دولت سنبھالی ہوئی ہے اور دنیوی لحاظ سے ان کی بہت بڑی طاقت ہے اور اسلام دشمنی میں بھی یہ لوگ بہت نمایاں ہیں۔" (خطبات ناصر جلد 4 صفحہ 355 ) ایک انتباہ عیسائیت کے مقابلہ کے لئے عالم اسلام کا متحد ہونا ضروری ہے حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 19اکتوبر 1973ء میں فرماتے ہیں : " اس وقت مسلمانوں کی ایک بہت بڑی جنگ لڑی جارہی ہے۔عیسائی طاقتیں اور یہودی رو پید اور اثر ورسوخ ایک ایسے خطہ ارض پر مسلمانوں سے برسر پیکار ہیں جس کے متعلق شروع ہی میں یعنی 1948 ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے دنیائے اسلام کو ایک اختباہ کیا تھا۔جب دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اتحادیوں نے اپنے مفاد کی خاطر مسلم