ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 177 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 177

177 طرف ہے۔وہ جہت وہ ہے جہاں ہم نے اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے۔ہمارے قدموں کو وہ اپنے فضل سے تیز تر کر دے گا اور ہمارے نفوس واموال میں وہ برکات دے گا جن برکات کا وعدہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا ہے اور وہ ہمیں توفیق دے گا کہ اپنے نفوس و اموال کی ان برکات اور بڑھوتی کو جو محض اس کے فضل سے عطا ہوئی ہے ساری کی ساری اس کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوں اور وہ ہماری ان حقیر کوششوں کو کبھی نا کام نہیں ہونے دے گا۔بلکہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا اور میں پورے یقین اور وثوق کے ساتھ ساری جماعت کو جو یہاں بیٹھی ہوئی ہے اور تمام دنیا کو جہاں کہ آج کی آواز پہنچے یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ چھپیں تھیں سال کے اندر دنیا کی ساری طاقتیں مل کر بھی اس روحانی انقلاب کو روک نہیں سکتیں۔شاید وہ دن قریب ہے جب کہ دنیا کے ممالک کی اکثریت اسلام کو قبول کر چکی ہوگی اور وہ لوگ جواب خدا تعالیٰ کے مامور اور ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں۔ان کی زبانیں آپ پر درود بھیجتے ہوئے خشک ہورہی ہوں گی اور ان کے دلوں کی یہ تمنا ہوگی کہ ان کی پہلی زندگی کے مقابلہ میں ان کی اس زندگی کے دن چوبیس گھنٹے کی بجائے اڑتالیس گھنٹے کے ہو جائیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ایک دن میں درود پڑھ کے اپنی پرانی خطاؤں کو خدا تعالیٰ سے معاف کرا سکیں۔غرض یہ دن آنے والا ہے مگر جو ذمہ داری خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم پر عائد کی گئی ہے اسے بھی ہم نے بہر حال پورا کرنا ہے۔ہمیں بھی اس عظیم روحانی انقلاب کے قرب کی وجہ سے عظیم قربانیاں دینی پڑیں گی اور یہ کام ظاہری اصطلاح کی رو سے خالی ہاتھ سے نہیں ہوگا بلکہ جب ہم اپنا سب کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دے دیں گے تو خدا تعالیٰ کہے گا میرے بندے نے جب اپنا سب کچھ میری راہ میں دے دیا تو میں بھی اپنا سب کچھ جو ان کے لئے ضروری ہے کیوں بچائے رکھوں اور جب خدا تعالیٰ کی ساری طاقتیں اور اس کے سارے خزانے ہمارے ساتھ ہو جائیں گے تو پھر تم خود ہی سوچ لو۔ہمیں کس چیز کی کمی محسوس ہوگی۔" عیسائیت کا اسلام کے خلاف دجل خطابات ناصر جلد 1 صفحہ 74-75) حضرت خلیفہ ایسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 10 نومبر 1972ء میں فرماتے ہیں ایذاء پہنچانے کا دوسراحصہ دجل سے تعلق رکھتا ہے۔جس میں عیسائیت نے بڑی مہارت حاصل کر رکھی ہے۔عیسائیت نے تاریخی واقعات اور حقائق کو توڑ مروڑ کر اسلام کے خلاف اتنا دجل کیا ہے اور اسلام کی ایک ایسی بھیانک شکل پیش کی ہے اور اسلام اور بانی اسلام حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف ایساز ہر پھیلا دیا ہے کہ جس سے بہت سے جاہل اور نادان آدمی اثر قبول کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔پس ایک طرف تو گالیاں ہیں جو اسلام کے خلاف ہمیں سننی پڑتی ہیں اور دوسری طرف افتراء پردازی اور دجل ہے جو ہمارے کانوں میں پڑتا ہے۔اسلام کے خلاف یہ دونوں حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔عیسائی اور بعض دوسری مخالف قو میں اسلام کو اتنا بدل دیتی ہیں کہ جولوگ اصل حقیقت کو نہیں جانتے وہ فور متاثر ہو جاتے ہیں۔اُن کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا کہ یہ کس قسم کا دجل ہے جو محمد رسول