ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 176
176 پانچ گھنٹے ضرور بولیں گے لیکن تمہارے لئے یہ شرط نہیں ہوگی۔اس لئے کہ یہ بھی بڑا ظلم ہے کہ ایک شخص کو کہا جائے تم ضرور پانچ گھنٹہ تو بولو۔جب کہ وہ خود اس نتیجہ پر پہنچا ہو کہ ان تمام عنوانات کے متعلق وہ اپنی کتاب کی رو سے صرف ہیں منٹ گفتگو کرسکتا ہے۔اس سے زیادہ اس کتاب میں دلائل ہیں ہی نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا۔میری شرط یہ ہے کہ میں پانچ گھنٹہ تک بولوں گا۔تمہیں اجازت ہے کہ جتنا چاہو بولو۔تم چاہے پانچ منٹ بولو یا بیس منٹ بولو۔مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن مقابلہ مجموعی طور پر ہوگا تا یہ دیکھا جائے کہ کامل نبی کون ہے اور زندہ نبی کون ہے اور کسی نبی کی قوت قدسیہ اب بھی جاری ہے۔یہ دعوتِ فیصلہ بشپ آف لاہور کے ساتھ ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ بشپ آف لا ہور کے تمام بشپ بھائیوں کو ہماری طرف سے یہ دعوتِ فیصلہ ہے کہ جو بشپ بھی۔جس ملک میں بھی، جس جگہ بھی ہو۔وہ ان شرائط کے ساتھ اس دعوتِ فیصلہ کو قبول کرلے اور امن اور شرافت کی مجلس میں تبادلہ خیالات ہو تو اس کا نتیجہ خود ہی نکل آئے گا کہ کامل اور زندہ نبی حضرت عیسی علیہ السلام ہیں یا ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل اور زندہ نبی ہیں۔" خطابات ناصر جلد 1 صفحہ 165-167) آنحضور کو گالیاں دینے والی زبانیں احمدیوں کے ذریعہ درود پڑھنے لگیں گی حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ اختتامی خطاب جلسہ سالانہ 21 دسمبر 1965ء میں فرماتے ہیں۔اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا اور دنیا کی کوئی طاقت بلکہ دنیا کی سب طاقتیں مل کر بھی اس الہی تقدیر کے، راستہ میں روک نہیں بن سکتیں۔ہر طاقت جو اسلام کی بڑھتی ہوئی عزت کے راستہ میں حائل ہوگی ذلیل کر دی جائے گی اور اگر دنیا کے تمام اموال بھی اکٹھے کر کے عیسائیت اور دوسرے ادیان باطلہ کے پھیلانے اور اسلام کی مخالفت پر خرچ کئے جائیں۔تو بھی ان کا نتیجہ مٹی کی اس چٹکی سے زیادہ نہیں نکلے گا جو آپ اپنے پاؤں کے نیچے سے اٹھاتے ہیں اور جو حقیر اموال خدا تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں اور اپنے فضل سے جن قربانیوں کی تو فیق اس نے ہمیں عطا کی ہے۔کسی فرد بشر یا تمام بنی نوع انسان کی جرات نہیں کہ ان کے مقابلہ میں آئے یا ان کے مقابلہ میں ٹھہر سکے۔خدا کی تو حید دنیا میں قائم ہو کر رہے گی۔شرک دنیا سے مٹایا جائے گا۔مسیح کے پجاری یا پھروں کے سامنے اپنی جبینوں کو جھکانے والے یا درختوں کی عبادت کرنے والے اپنی اسباب اور سامانوں پر بھروسہ کرنے والے یا دوسری اقسام کے مشرکوں میں مبتلا لوگوں کے شرکوں کو اس طرح کاٹ دیا جائے گا جس طرح ایک تیز دھار والی تلوار شیر کو دوٹکڑے کر کے رکھ دیتی ہے جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم کمزور ہیں لیکن جس خدا کی طرف ہم منسوب ہوتے ہیں۔وہ کمز ور نہیں پھر ہم مایوس کیوں ہوں۔بے شک ہم گنہگار ہیں۔خطا کار ہیں ہم غلطیاں بھی کرتے ہیں لیکن ہم اپنے رب سے مایوس نہیں۔ہمارے کانوں میں اس کی میٹھی آواز ہمیشہ آتی رہتی ہے کہ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ط إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًعاه (الزمر: 54) ہماری لغزشوں کو ہمیں یقین ہے وہ اس لئے معاف کر دے گا کہ ہماری حرکت جس جہت کی