ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 175 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 175

175 آپ ہی وقت مقرر کر دیا اعلان کر دیا اور یہ آواز سب تک پہنچ بھی نہیں سکتی۔جو تم نے اٹھائی ہے اور بعد میں آپ کہہ دیں گے کہ کوئی میرے مقابلہ میں نہیں آیا۔اس لئے عیسائیت جیت گئی ہے اور اسلام ہار گیا۔یہ غلط طریق ہے۔اور جو موضوع تم نے لیا ہے بھی غلط ہے۔اول تو یہ ثابت کر دینا کہ فلاں شخص سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔اس کی بزرگی کو ثابت نہیں کرتا۔دنیا میں لاکھوں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی چوری نہیں کی کبھی اور اس قسم کی بدیاں نہیں کیں۔اس سے ان کی کوئی بزرگی ثابت نہیں ہوتی۔اس لئے جو عنوان آپ نے انتخاب کیا ہے وہ بھی غلط ہے لیکن اب میں تمہیں یہ کہتا ہوں اگر واقع میں تم اسلام سے عیسائیت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو۔تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔آپ نے بشپ آف لاہور مؤثر کی دعوت فیصلہ کو منظور کرتے ہوئے ایک بہت زیادہ معقول اور مؤثر ذریعہ فیصلہ ان کے سامنے رکھا اور وہ یہ ہے۔"اگر بشپ صاحب تحقیق حق کے در حقیقت شائق ہیں۔تو وہ اس مضمون کا اشتہار دے دیں کہ ہم مسلمانوں سے اسی طریق سے بحث کرنا چاہتے ہیں کہ ان دونوں نبیوں ( حضرت مسیح علیہ السلام اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) میں سے کمالات ایمانی واخلاقی و برکاتی و تاثیراتی و قولی و فعلی و ایمانی وعرفانی وعلمی و تقدسی اور طریق معاشرت کے رُو سے کون نبی افضل واعلیٰ ہے۔اگر وہ ایسا کریں اور کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر ضرور جلسہ قرار دادہ پر حاضر ہو جائے گا۔ورنہ یہ طریق محض ایک دھوکہ دینے کی راہ ہے۔جس کا یہی جواب کافی ہے اور اگر وہ قبول کر لیں تو یہ شر ط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ سے کم وقت نہ دیا جائے" ( مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 383) اس طریق پر عمل کرنے سے معلوم ہو جائے گا کہ کامل نبی وہ ہے جس نے کامل زندگی اس دنیا میں گزاری اور ایک مفلوج جس کا آدھا جسم مارا ہوا ہو۔اس کے متعلق کوئی عقلمند انسان یہ نہیں کہ سکتا کہ وہ فالج کی حالت میں ایک کامل زندگی گزار رہا ہے۔وہ شخص یقینا ایک کامل زندگی نہیں گزار رہا۔اسی طرح اگر ایک شخص نا بینا ہے تو وہ بھی کامل زندگی نہیں گزار رہا۔ایک شخص پاگل ہے تو وہ بھی کامل زندگی نہیں گزار رہا۔آپ نے بیان فرمایا کہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے مقابلہ یہ ہونا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کامل نبی اور زندہ نبی ہیں یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کامل نبی اور زندہ نبی ہیں۔آپ نے کمالات تاثیراتی اور تقدسی کا اس لئے ذکر فرمایا ہے اور اگر عیسائی مقابلہ کے لئے تیار ہوں۔تو آپ نے فرمایا وہ کوئی تاریخ مقرر کر کے ہمیں اطلاع دیں تا ان کی دعوت فیصلہ کچھ تبدیلی کے ساتھ یا بہتر رنگ اور بہتر شکل میں ہم منظور کر لیں اور ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تاریخ مقررہ پر اور جلسہ قرار داده پر ضرور کوئی نہ کوئی شخص حاضر ہو جائے گا پھر آپ نے فرمایا کہ اگر ہمارا بیان کردہ طریق مقابلہ منظور ہوتو یہ شرط ضروری ہوگی کہ ہمیں پانچ گھنٹہ کے لئے تقریر کا وقفہ دیا جائے یہ نہیں کہ دونوں فریق نے پانچ پانچ منٹ تقریر کی اور چلے گئے یا آپ نے دو گھنٹہ تقریر کر لی اور ہم نے اپنی باری پر ابھی ہمیں منٹ ہی تقریر کی اور آپ نے دیکھا کہ بات نہیں بنتی تو گڑ بڑ کی اور اٹھ کر چلے گئے۔بلکہ نہایت شرافت کے ساتھ (چونکہ بحث مفصل ہوئی تھی ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا کہ ہم