ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 174
174 کے اسلام کا نام لیتے ہیں۔بہر حال یہ تو اُس زمانہ کے بعد کے زمانہ کی باتیں ہیں۔اُس زمانہ میں تو دشمن یہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ بس ہم نے اسلام کو مغلوب کر لیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ہندوستان میں پادریوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہندوستان میں دیکھنے کو کوئی مسلمان باقی نہیں رہ جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افریقہ ہماری جھولی میں پڑا ہے۔پھر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان ممالک کو ہم فتح کرتے ہوئے خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا خانہ کعبہ پر لہرائیں گے۔یہ وہ اعلانات تھے جو اس زمانہ میں عیسائی پادریوں کی طرف سے کئے گئے تھے اور اس زمانہ میں کوئی عالم ، کوئی پڑھا لکھا ، ان کے مقابلہ میں آواز اٹھانے والا تاریخ انسانی نے کوئی نہ دیکھ پایا۔پھر اس وقت خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مست ایک انسان پیدا ہوا اور اس کا نام مسیح (علیہ السلام ) بھی رکھا گیا۔اور اس کا نام منصور بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام احمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمود بھی رکھا گیا اور اس کا نام مہدی بھی رکھا گیا۔اور وہ مسیح اور مہدی خدا تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کی بھلائی کے لئے اور قرآن کریم کی عظمت کو دنیا میں قائم کرنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے ساری دنیا کی دولتوں کو اور ان ساری دنیوی طاقتوں کو اور ان سارے دنیوی اثر ورسوخ اور اقتدار کو للکارا۔انہوں نے لوگوں سے کہا تم دنیا کے مال و دولت کی وجہ سے اور دنیا کی جاہ و حشمت کے برتے اور سیاسی اقتدار کی وجہ سے اور ان ہتھیاروں کی وجہ سے جو تم نے ایجاد کر لئے ہیں یہ سمجھتے ہو کہ تم اسلام کو مغلوب کر لو گے لیکن انہوں نے کہا مہدی کو خدا نے زبر دست روحانی ہتھیار دیا ہے اس لئے اسلام کو ایٹم بموں کی ضرورت نہیں ہے۔نہ تو پوں کی ضرورت ہے اور نہ رائفلوں کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ میں وہ حسن کے جلوے رکھے ہیں اور احسان کی طاقتیں رکھی ہیں کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم تمہارے دلوں کو خدا تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت نہ لیں۔" خطابات ناصر جلد 1 صفحہ 650-651) اسلام کی غیرت میں حضرت مسیح موعود کی پانچ گھنٹے تقریر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ اختتامی خطاب جلسہ سالانہ 28 جنوری 1967ء میں فرماتے ہیں۔ایک موقع پر عیسائیت کے لاہور کے بشپ صاحب نے آپ ہی ایک دن مقرر کر دیا اور کہا کہ اس دن مسلمانوں کا کوئی عالم اگر وہ واقعہ میں عالم ہے اور جرات اور دلیری اس کے دل میں ہے تو وہ آجائے اور مقابلہ اس بات میں ہوگا کہ معصوم نبی کون ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جب علم ہوا تو آپ نے ان کو لکھا کہ اول تو یہ طریق ہی غلط ہے۔جو آپ نے اختیار کیا ہے۔آپ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ تم ہم سے آکر مقابلہ کر لو۔پھر جب شرائط ہوتیں جو وقت ، جو دن ، جو جگہ مقرر ہوتی۔وہاں مقابلہ ہوتا آپ ہی جگہ مقرر کر دی ہے۔آپ ہی دن مقرر کر دیا ، اور