ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 173 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 173

173 نہیں تھا کہ اس کی پیروی کی جائے۔غرض ہمارے فعل کے نتیجہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر دنیا کی نگاہ میں نعوذ بالله ایک داغ پیدا ہوتا ہے۔حقیقتا تو وہ داغ نہیں ہوتا کیونکہ اس داغ کے ہم ذمہ دار ہیں ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذمہ دار نہیں لیکن دنیا کی نگاہ میں ایک داغ پیدا ہوتا ہے۔دراصل یوں سمجھنا چاہئے کہ اس کے نتیجہ میں دنیا کی آنکھ میں ایک دھبہ پیدا ہوتا ہے۔جب کوئی دنیا دار اپنی اس داغدار آنکھ کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا ہے تو وہی دھبہ جو اس کی آنکھ کا ہے آپ کی شخصیت پر بھی اسے نظر آتا ہے۔جیسے بڑی عمر کے اور بوڑھے لوگ بعض دفعہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری نظر دُھندلا گئی ہے یعنی ہر چیز ہمیں دُھندلی دھندلی نظر آتی ہے حالانکہ وہ چیز دھند لی نہیں ہوتی بلکہ جو آنکھ دھندلا گئی ہے اس کا اثر اس کے نفس پر یہ پڑا کہ وہ چیز اسے دھندلی نظر آئی۔پس ہماری غلطی کے نتیجہ میں یہ نگاہ جس کو ہم نے داغدار کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک داغ دیکھتی ہے۔گو یہ حقیقت ہے کہ وہ داغ وہاں نہیں ہے بلکہ اس آنکھ میں داغ ہے لیکن اس کا نتیجہ تو اتنا ہی بھیانک اور خطرناک ہے جتنا نعوذ باللہ اس صورت میں ہوتا کہ اگر ممکن ہوتا تو اس کی نظر کی طرح آپ کی شخصیت پر بھی داغ ہوتا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ جس کو ہماری آنکھ داغدار دیکھتی ہے اس کی ہم پیروی کیوں کریں اور قصور ہمارا ہوتا ہے کیونکہ ہم نے اپنی غفلت اور بے توجہی کے نتیجہ میں اور اپنی مستیوں اور اُن وساوس کے نتیجہ میں جو شیطان نے ہمارے دل میں پیدا کئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو چھوڑ دیا ، ہم نے آپ کے بعض نمونوں کو چھوڑ دیا اور اس طرح پر ہم اس چیز میں کامیاب نہ ہوئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کریں۔یہ ایک بڑا نازک معاملہ ہے۔بڑی اہم ذمہ داری ہے جو ہم پر عائد کی گئی ہے۔ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم اپنی زندگیوں کے ہر پہلو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کا حسن و احسان پیدا کرنے کی کوشش کریں تا اس کے نتیجہ میں یہ اندھی دنیا خدا کے فضل سے روشنی حاصل کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو پہچاننے لگے اور اس طرح پر وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے حقیقی عزت کا مالک بنایا تھا، جس کواللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں عزتوں کی تقسیم کیلئے ایک منبع قرار دیا تھا اس کو پہچانے لگیں اور اس کے طفیل اور اس کے ذریعہ سے اور اس کی قوت قدسی کے نتیجہ میں اور اس کے افاضہ روحانی کے بعد اللہ تعالیٰ کی عزت کو پہچانے لگیں جو اصل عزتوں کا مالک ہے۔آمین" خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 868-878) حضرت مسیح موعود کی آمد سے اسلام کی غیرت کے لئے ہمارے سر بلند ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ اختتامی خطاب جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1973ء میں فرماتے ہیں:۔"ہم احمدیت کے ممنون ہیں۔اس لئے کہ ان کے آنے سے پہلے اسلام کا نام لیتے ہوئے ہماری گردنیں شرم سے جھک جاتی تھیں۔کیونکہ اسلام پر حملہ بڑا سخت تھا اور مسلمان دینی لحاظ سے بہت کمزور ہو گئے تھے۔پھر انہوں نے کہا۔پھر جماعت احمدیہ کے مبلغ آئے اور انہوں نے ہمیں قرآن عظیم کی صحیح تفسیر سمجھائی۔اب ہم گردنیں اونچی کر