ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 172
172 مومنوں نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اس عزت کو حاصل کیا جیسا کہ اس آیت میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اصل عزت تو اللہ تعالیٰ کی ہے۔پھر اس کا مظہر اتم ہونے کی حیثیت میں اس کامل اور مکمل رسول کی ہے جو کامل اور مکمل شریعت لے کر آیا جو تمام انبیاء کا فخر اور تمام مخلوقات کا شرف ہے۔پھر اس رسول کے طفیل ان لوگوں کو عزت ملتی ہے جو اس پر ایمان لائے اور اس کی تعلیم پر عمل کرتے اور اس سے تعلق محبت کو جوڑتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ اگر تم میری نگاہ میں محبوب بننا چاہتے ہو تو تم میرے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی اتباع کرو۔۔۔محسن حقیقی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔جسمانی اور دنیوی طور پر بھی اور روحانی اور اُخروی لحاظ سے بھی آپ ہی کی ذات محسن اعظم ہے اور آپ ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو انسان نے اس رنگ میں اور اس شان میں اور اس حسن میں اور اس احسان میں پہچانا اور اس سے تعلق رکھا۔اللہ تعالیٰ کی ذات اپنی ذات کے لحاظ سے بھی اور اپنی صفات کے لحاظ سے بھی بے مثال و مانند ہے لیکن اس کے قریب تر اور اس کے مشابہ تر جو وجود پیدا ہوا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود تھا اسی لئے اللہ تعالیٰ نے کہا۔میری صفات کے مظہر اتم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں اگر ہم آپ کی زندگی کے ہر پہلو کو اپنے لئے اسوہ اور نمونہ سمجھیں اور بنا ئیں تو اپنی استعداد کے مطابق ہم بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر ہوں گے اور ایک لحاظ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کرنے کا موجب بنیں گے اور دوسرے لحاظ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کو دنیا میں قائم کرنے کا وسیلہ بنیں گے۔پس جماعت کو یہ نہ بھولنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ دنیا میں تو حید کو قائم کیا جائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو قائم کیا جائے۔یہ ایک چھوٹا سا فقرہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا لیکن اس چھوٹے سے فقرہ میں جیسا کہ میں نے ابھی مختصر بیان کیا ہے ہم پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔(1) اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھ کر اپنے نفسوں میں انہیں پیدا کرنا ( 2 ) ان صفات کا اپنے نفسوں میں جلوہ دکھا کر دنیا کو اللہ تعالیٰ کی صفات سے متعارف کروا کر انہیں اس طرف لے کر آنا کہ وہ بھی اپنی زندگیوں میں اللہ تعالیٰ کی صفات پیدا کریں (3) تیسری ذمہ داری ہم پر یہ عائد ہوتی ہے کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو اپنے نفسوں میں قائم کرنے والے ہوں یعنی ہمارے ہر قول اور ہر فعل سے یہ ثابت ہو کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی اب بنی نوع انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری عزتوں کا سر چشمہ ہیں اور ہر فیض کی کنجی آپ کو عطا کی گئی ہے۔آپ کا وجود خدا نما ہے اور اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے اس کی صفات کی معرفت حاصل کرنے اور اس کے قرب کو پالینے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کی اطاعت ضروری ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہمارا ہر فعل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کے مطابق ہو ورنہ دنیا یہ کہے گی کہ تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں اُسوہ کی پیروی نہ کر کے آپ کی عزت پر یہ دھبہ لگایا ہے۔تمہارے نزدیک وہ فعل خدا کی نگاہ میں اتنا معزز