ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 171 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 171

171 میں اور ہر معنی میں صبر کی توفیق عطا کر۔۔۔۔فَاصْبِرُ عَلى مَا يَقُولُونَ دشمن طعنہ دے گا۔دشمن زبان سے سختی کرے گا، افتراء کرے گا، اتہام لگائے گا، سینوں کو چھلنی کر دے گا لیکن تمہاری زبان ان زبانوں کا مقابلہ کرنے کیلئے نہیں بنائی گئی بلکہ تمہارے منہ میں زبان اس لئے رکھی گئی ہے کہ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ کہ خدا کی حمد کرتے رہو اور اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔پس جب غیر کی زبان مخالف کی زبان اسلام پر نا جائز اعتراض کر کے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بے ہودہ افتراء باندھ کر تمہارے دلوں کو دکھائے تو تمہاری زبان اپنے قابو میں رہے اور اس کو قابو میں رکھنے کیلئے اس زبان سے خدا کی حمد اور اس کی تسبیح کے ترانے گانے شروع کر دو۔ہمیں بعض دوسری آیات سے بھی پتہ لگتا ہے کہ صبر کا حد اور تسبیح سے بڑا تعلق ہے جیسا کہ آیہ مذکورہ یعنی فَاصْبِرُ عَلَى مَا يَقُوْلُوْنَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ میں بھی بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔(خطبات ناصر جلد 2 صفحہ 504-511) حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض نبی کریم کی عزت دنیا میں قائم کرنا ہے حضرت خلیفہ امسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 19 ستمبر 1969ء میں فرماتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ فرمایا کہ میری بعثت کی اصل غرض یہ ہے کہ توحید باری تعالیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو دنیا میں قائم کروں تو آپ نے دوسرے الفاظ میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے ایک ایسی جماعت دی جائے گی جو تو حید حقیقی پر قائم ہوگی اور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو جاننے اور پہچاننے والی ہوگی اور اس عزت کے لئے ساری ذلتیں قبول کرنے کیلئے تیار ہوگی۔قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَكِنَّ الْمُنْفِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ (المنافقون:9 ) کہ حقیقی عزت کا سچا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ساری عزتوں کا سر چشمہ اسی کی ذات ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہونے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ عزت حاصل کی کہ کسی ماں جائے نے نہ ایسی عزت حاصل کی اور نہ کبھی حاصل کر سکتا ہے۔پس سب سے معزز خدا تعالیٰ کی نگاہ میں اس عالمین میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کی ذات سب سے معزز اس لئے ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مخلوق میں انسانوں کے لئے اور ان کی روحانی ارتقاء کے لئے اپنی جن صفات کے جلوے دکھائے آپ نے ان صفات کو کامل طور پر اپنے اندر جذب کر لیا اور یہ کام کامل فنا کے بغیر ممکن نہیں تھا۔غرض آپ نے اللہ تعالیٰ میں ہو کر زندگی ڈھونڈنے کے لئے اور اس سے حیات پانے کے لئے اپنے اوپر ایک کامل فنا اور ایک کامل موت طاری کی۔تب آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایک حقیقی اور ایک کامل زندگی عطا کی اور چونکہ فنا اور عبودیت کے اس ارفع مقام کو آپ کے سوا اور کسی نے نہیں پایا تھا اور اسی کے نتیجہ میں چونکہ آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم تھے اس لئے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے زیادہ معزز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے اور آپ کے فیوض کے نتیجہ میں پھر