ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 169
169 حضرت محمدؐ کی عظمت شان کے قیام کے لئے دعاؤں کی تلقین حضرت خلیفہ المسح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ 14 فروری 1969ء میں فرماتے ہیں۔"اسلام کی قوت کم کرنے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے مٹانے کے لئے دنیا میں ظاہری طور پر بھی اور باطنی طریقوں سے بھی منصوبے ہو رہے ہیں اور سازشیں کی جا رہی ہیں اور ان تمام منصوبوں اور ان تمام سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کو قائم کیا گیا ہے۔جب ہم اپنے نفسوں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو خود کو بے کس اور کمزور پاتے ہیں۔سوائے تو گل کے کوئی پناہ نہیں پاتے۔سوائے دعا کے کوئی چارہ نہیں دیکھتے۔سوائے عاجزانہ راہوں کے اختیار کرنے کے نجات کی کوئی راہ نہیں پاتے۔اسی لئے گزشتہ سال میں نے جماعت میں یہ تحریک کی تھی کہ دوست کثرت سے سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمُ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وال مُحَمَّدٍ کا ورد کریں۔۔۔میں نے یہ تحریک مارچ کے وسط میں کی تھی اور مارچ کے آخر کسی وقت محرم شروع ہورہا تھا۔میں نے تحریک کی تھی کہ یکم محرم سے ایک سال تک کے لئے دوست یہ دعا کرتے رہیں۔اس کے بعد میں نے جون میں احباب جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ ہمارے ذمہ جو کام ہے وہ بڑا سخت ہے وہ بڑا مشکل ہے۔ہم کمزور ہیں۔اسلام کا مخالف ظاہری اور مادی اور دنیوی لحاظ سے ہر قسم کی طاقتیں رکھنے والا ہے اور اس کے پاس تمام اسباب موجود ہیں۔ظاہر پر نگاہ ڈالیں تو ہم مقابلہ کرنے کے قابل نہیں لیکن ہمیں اپنی قوتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنی بشری کمزوریوں سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اپنی بشری کمزوریوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے خود کو محروم کر دیں اور اس طرح اسلام کی فتح کا دن قریب لانے کی بجائے ہماری ہستیاں انہیں دور لے جائیں۔اس لئے بڑی عمر کے احباب جماعت جو 25 سال سے زائد عمر کے ہیں وہ سو بار استغفار پڑھا کریں اور ان میں سے جو چھوٹی عمر کے ہیں 15 سے 25 سال کی عمر کے 33 بار اور اور 15 سے کم عمر والے 11 بار استغفار پڑھا کریں۔اس کے بعد میں نے جماعت کو کم از تعداد مقرر کئے بغیر ی تحریک کی تھی کہ یہ دعا کثرت سے پڑھیں۔رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا۔۔۔۔۔اس کے علاوہ میں آج ایک نئی دعا بھی ان دعاؤں میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔دوست اس دعا کو بھی کثرت کے ساتھ پڑھیں اور وہ یہ ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرُنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِين 0 (البقره: 251) یہ دعا قرآن کریم میں روایتا ہی بیان ہوئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہی انبیاء علیہم السلام کو دعائیں سکھاتا رہا ہے اور جب ان کو قرآن کریم میں دُہرایا گیا ہے تو اسی غرض سے دُہرایا گیا ہے کہ ایک مسلمان بھی ان دعاؤں کی طرف متوجہ ہو اوران کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دعا میں یہ سکھایا ہے کہ یہ دعا کیا کرو کہ اے خدا!! ہمیں کمال صبر عطا کر اور ہمیں ثبات قدم