ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 164 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 164

164 یہ کہے گا اسے مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کو مد نظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکم یا نیم حکم سے داڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو داڑھی رکھنی چاہئے۔" (الفضل 9اکتوبر 1930ء) حضرت مصلح موعود کی غیرت دینی حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 10 دسمبر 2004ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا۔" آج مخالف اٹھ کے یہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ تو نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو کم رہے ہیں۔آج اگر اس مقام کو کسی نے پہچانا ہے اور اس کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی غیرت رکھی ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ آپ کی غیرت کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ میری عمر اس وقت 17 سال کی تھی کہ کسی جلسہ میں بھیجا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک وفد کی صورت میں۔فرمایا میری عمر اس وقت 17 سال کی تھی مگر وہاں مخالفین نے کچھ باتیں کیں۔فرمایا کہ میں اس بد گوئی کوسن کر برداشت نہ کر سکا اور اور میں نے کہا کہ میں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا، میں یہاں سے جاتا ہوں۔اکبر شاہ صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے کہ مولوی صاحب تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اٹھ کر باہر جارہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہوتا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی۔میں نے کہا کچھ ہو مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔وہ کہنے لگے کہ آپ کو کم سے کم نظام کی اتباع تو کرنی چاہئے۔مولوی صاحب اس وقت ہمارے لیڈر ہیں اس لئے جب تک وہ بیٹھے ہیں اس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اٹھ کر باہر نہیں جانا چاہئے۔ان کی یہ بات اس وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب یہ وفد واپس قادیان پہنچا اور حضرت اقدس کی خدمت میں اس جلسہ کی رپورٹ پیش کی تو حضور کو اس قدر رنج پہنچا کہ الفاظ میں اسے بیان کرنا مشکل ہے۔جو صحابہ اس موقع پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کی زبان فیض ترجمان سے بار بار یہ الفاظ نکلتے تھے کہ " تمہاری غیرت نے یہ کیسے برداشت کیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف گالیاں سنتے رہے۔تم لوگ اس مجلس سے فوراً اٹھ کر باہر کیوں نہ آ گئے"۔(حیات نور صفحہ 308) تو یہ ہے آپ کی تعلیم ، آپ کے دلی جذبات اور آپ کا عملی نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں سرشار ہونے کا اور آپ کی خاطر غیرت دکھانے کا۔" خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 896-897) اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے دل کا درد حضرت خلیفہ ریح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ 17 فروری 2012ء میں فرمایا: " حضرت خلیفۃ اسیح الثانی اصلح الموعود کی باون سالہ خلافت۔۔۔۔۔کی تحریرات، آپ کی تقریریں اُس درد سے