ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 163
163 امید نہیں اور جو اسلام اور احمدیت کو ایک شکست خوردہ مذہب سمجھتا ہے۔ورنہ جو شخص اسلام اور احمدیت کو جیتنے والا مذہب سمجھتا ہے اس کے سامنے تو اگر کروڑ پتی بھی آجائیں تو وہ ان کو حقارت سے ٹھکرا دیتا ہے اور دنیا کے تمام بادشاہوں کو بھی ایک سچے مومن کے مقابلہ میں ذلیل سمجھتا ہے۔دنیا آخر ہے کیا چیز ! کیا یہ خدا کے نبیوں کے مقابلہ میں کھڑی ہوئی اور کامیاب ہوئی ؟ آخر ہزاروں نبی دنیا میں آئے ہیں۔ان ہزاروں نبیوں میں سے کب کوئی ایسا نبی آیا کہ اسے دنیوی لحاظ سے کوئی عزت حاصل تھی لیکن کب اس کا سلسلہ ختم ہوا اور وہ فاتح اور حکمران نہیں تھا۔یہی حال احمدیت کا ہے۔پس ایسی شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے اپنے ہتھیار ڈال رکھے ہیں وہ ہرگز کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کو حکومت دے دینا اول درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور احمدیت نے پیدا کرنی ہے اور جس ذہنیت کو ترک کر کے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر دس کروڑ بادشاہ بھی آکر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادشاہ ہمتیں چھوڑنے کے لئے تیار ہیں تم ہماری صرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہے تو تم ان دس کروڑ بادشاہوں سے کہہ دو کہ تف ہے تمہاری اس حرکت پر میں تو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بات کے مقابلہ میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا۔یہ ہے ایمان کی کیفیت۔جو شخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعویٰ کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہرگز ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔" ( خطبات محمود جلد 23 صفحہ 218-221) جماعت کے نوجوانوں کو اس غرض سے شعار اسلامی اپنانے کی تلقین تا لوگ حضرت محمددؐ کے خلاف بات نہ کریں 3 اکتوبر 1930 ء کو حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے شعار اسلامی ( داڑھی) کی پابندی کی طرف پر زور توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔احباب کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنا ئیں۔کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف جا رہی ہے اور ہم کہتے ہیں ہم اس طرف چلیں گے جس طرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے جانا چاہتے ہیں اس سے دنیا پر کتنا رعب پڑے گا دنیا رنگا رنگ کی دلچسپیوں اور ترغیبات سے اپنی طرف کھنچ رہی ہو مگر ہم میں سے ہر ایک یہی کہے کہ میں (اس) راستہ پر جاؤں گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تجویز کردہ ہے تو لازماً دنیا کہے گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے متبعین اس کے گرویدہ اور جانثار ہیں۔لیکن جو شخص فائدے گن کر مانتا ہے وہ دراصل مانتا نہیں۔مانتاوہی ہے جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کر رہا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات