ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 165
165 بھری ہوئی ہیں جو اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو دنیا میں قائم کرنے کیلئے آپ کے دل میں تھا۔۔۔۔۔اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنے دل کا درد آپ نے ایک جگہ ( اسلام کے نام کی مناسبت سے ) فرمایا:۔"اصل چیز دنیا میں اسلامستان کا قیام ہے۔ہم نے پھر سارے مسلمانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کرنا ہے۔ہم نے پھر اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام ممالک میں لہرانا ہے۔ہم نے پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عزت اور آبرو کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا ہے۔ہمیں پاکستان کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں مصر کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہے۔ہمیں عرب کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں ایران کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے مگر ہمیں حقیقی خوشی تب ہوگی جب سارے ملک آپس میں اتحاد کرتے ہوئے اسلامستان کی بنیا درکھیں۔ہم نے اسلام کو اُس کی پرانی شوکت پر پھر قائم کرنا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے عدل اور انصاف کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور ہم نے عدل و انصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کرے گا۔اور ہر ایک کو اُس کا حق دلائے گا۔جہاں روس اور امریکہ فیل ہوا ،صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء اللہ کامیاب ہوں گے (فرماتے ہیں کہ) یہ چیزیں اس وقت ایک پاگل کی بڑ معلوم ہوتی ہیں مگر دنیا میں بہت سے لوگ جو عظیم الشان تغیر کرتے ہیں وہ پاگل ہی کہلاتے رہے ہیں۔اگر مجھے بھی لوگ پاگل کہہ دیں تو میرے لئے اس میں شرم کی کوئی بات نہیں۔میرے دل میں ایک آگ ہے، ایک جلن ہے، ایک تپش ہے جو مجھے آٹھوں پہر بے قرار رکھتی ہے۔میں اسلام کو اُس کی ذلت کے مقام سے اُٹھا کر عزت کے مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔میں پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانا چاہتا ہوں۔میں پھر قرآن کریم کی حکومت کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ یہ بات میری زندگی میں ہوگی یا میرے بعد۔لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں اسلام کی بلند ترین عمارت میں اپنے ہاتھ سے ایک اینٹ لگانا چاہتا ہوں یا اتنی اینٹیں لگانا چاہتا ہوں جتنی اینٹیں لگانے کی خدا مجھے توفیق دیدے۔میں اس عظیم الشان عمارت کو مکمل کرنا چاہتا ہوں یا اس عمارت کواتنا او نچالے جانا چاہتا ہوں جتنا اونچالے جانے کی اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے۔اور میرے جسم کا ہر ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت اس کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خرچ ہوگی اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی میرے اس ارادہ میں حائل نہیں ہوگی۔" تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1947 - انوار العلوم جلد 19 صفحہ 388-387) افضل انٹر نیشنل 9 مارچ 2012ء)