ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 162
162 لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے اسی طرح ہم آپ کے آگے بھی لڑ رہے ہیں اور آپ کے پیچھے بھی لڑ رہے ہیں، آپ کے دائیں بھی لڑ رہے ہیں اور آپ کے بائیں بھی لڑ رہے ہیں۔ہمارے آدمی دنیا کے ہر ملک میں پھیلے ہوئے ہیں اور اس لئے پھیلے ہوئے ہیں کہ تا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم کریں۔پس وہ لوگ جو ہم پر تیر چلاتے ہیں ہم انہیں کہتے ہیں کہ وہ بے شک تیر چلاتے چلے جائیں ہم ان کے تیروں سے ڈرنے والے نہیں۔بیشک وہ اس وقت زیادہ ہیں اور ہم تھوڑے مگر ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذرہ بھر بھی محبت ہے وہ آج نہیں تو کل ہم سے ضرور آ ملے گا اور جو ہم سے نہیں ملتا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عاشق نہیں کہلا سکتا۔اس کا دل مردہ ہے اور مُردہ کولیکر ہم نے کیا کرنا ہے۔" (انوار العلوم جلد 15 صفحہ 238-248) دوسروں کی نقل کر کے اسلام کی ذلت کے سامان پیدا کئے جاتے ہیں سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ہمیشہ ہی مختلف طریق سے جماعت کو اس طرف توجہ دلاتے رہتے تھے کہ جماعت احمد یہ کسی انجمن کا نام نہیں یہ ایک مذہبی نظام ہے جس کا مقصد دنیا میں اسلامی شریعت کا قیام واحیاء ہے۔حضور نے 19 جون 1942 ء کو ایک خطبہ میں شعار اسلامی کی پابندی کی از حد تاکید کی اور بتایا کہ داڑھی منڈوانے والے احمدی شکست خوردہ ذہنیت رکھتے ہیں۔انہیں جماعت کے کسی عہدہ کے لئے منتخب نہ کیا جائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا "جہاں شریعت کے احکام کا سوال آجائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں تو یقینا ہم اسلام کی ذلت کے سامان کر کے دشمنوں کی مدد کرنے والے قرار پاتے ہیں۔انہی نفلوں میں سے ایک نقل داڑھی منڈوانا ہے۔اور داڑھی منڈوا کر کوئی خاص فائدہ انسان کو نہیں پہنچتا۔و شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی چھوٹی سی بات بھی نہیں مان سکتا اس سے یہ کب توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بُری بات پیش کی جائے تو وہ اسے مان لے گا۔" نیز فرمایا:۔" میں نے متواتر جماعتوں کو توجہ دلائی ہے اور ہمارے ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہد یدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو داڑھی منڈواتے ہوں اور اس طرح اسلامی احکام کی ہتک کرتے ہوں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی دنیا داری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پرزہ ہو یا دنیوی لحاظ سے اسے کوئی اعزاز حاصل ہوا اسے جماعت کا عہد یدار بنا دیا جاتا ہے خواہ وہ داڑھی منڈواتا ہی ہو۔حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے آدمی بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں۔اور اگر دنیوی لحاظ سے ایسے لوگوں کو عہد یدار بنایا جاسکتا ہے تو عیسائیوں اور ہندوؤں کو کیوں نہیں بنایا جاسکتا۔وہ بہت زیادہ دولتمند اور دنیوی لحاظ سے بہت زیادہ معزز ہوتے ہیں۔مگر در حقیقت یہ کام وہی کر سکتا ہے جسے اسلام اور احمدیت کے جیتنے کی