ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 161 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 161

161 اور جبکہ میری ترقی تیری ترقی پر منحصر ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر روز بلکہ ہرلمحہ اپنے درجہ میں بڑھ رہے ہیں مگر یہ مخالف و ہیں ہاتھ ماررہے ہیں۔آپ کی فرمانبرداری ، آپ کی غلامی اور آپ کی کامل اتباع میں اگر کوئی شخص نبوت کا مقام حاصل کر لے تو اس میں آپ کی بہتک نہیں کیونکہ وہ بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوگا۔پس یہ مسائل ایسے نہیں کہ جن میں کوئی پیچیدگی ہو۔سیدھی سادی باتیں ہیں لیکن اگر یہ باتیں بھی کسی کی سمجھ میں نہ آئیں تو وہ ایک موٹی بات دیکھ لے کہ اس وقت دنیا میں اسلام کو عزت اور شان و شوکت حاصل ہے یا وہ کسمپرسی کی حالت میں ہے۔اگر اسلام اس وقت اسی شان اور اسی شوکت کے ساتھ قائم ہے جس شان اور شوکت کے ساتھ وہ آج سے تیرہ سو برس پہلے قائم تھا تو بیشک علاج کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر یہ دکھائی دے رہا ہو کہ مسلمان قرآن سے بے بہرہ ہیں، اس کی تعلیم سے غافل ہیں، بادشاہتیں مسلمانوں کے ہاتھ سے جاتی رہیں، حکومتیں ضائع ہو گئیں تو ہر شخص اپنے دل میں خود ہی سوچے اور غور کرے کہ خدا نے اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو بلند کرنے کا کیا سامان کیا ہے۔وہ اسلام جورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا اس پر حملے پر حملے ہورہے ہیں مگر مسلمان کہتے ہیں کہ اس کے علاج کی کوئی ضرورت نہیں بلکہ خدا اگر کہے کہ میں کسی کو اصلاح کیلئے بھیجتا ہوں تو یہ مولوی کہنے لگ جاتے ہیں کہ نہ نہ ہمیں کسی مصلح کی ضرورت نہیں۔پس اگر اسلام اچھی حالت میں ہے تو بے شک کہہ دو کہ حضرت مرزا صاحب نَعُوذُ باللہ جھوٹے تھے لیکن اگر قرآن کی طرف سے لوگوں کی توجہ ہٹ چکی ہے۔اسلام سے وہ غافل ہو گئے ہیں اور عملی حالتوں میں وہ بالکل سُست ہو گئے۔تو پھر ماننا پڑے گا کہ آپ بچے تھے اور آپ نے عین وقت پر آ کر اسلام کو دشمنوں کے نرغہ سے بچایا۔ورنہ اگر اس زمانہ میں بھی اسلام کی مدد کیلئے خدا تعالیٰ نے توجہ نہیں کی تو وہ کب کرے گا۔آج خود مسلمان کہلانے والے اسلامی تعلیموں پر عمل چھوڑ چکے ہیں اور وہ خدا کا محبوب جو اولین و آخرین کا سردار ہے اس پر عیسائی ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں، ہندو ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں۔سکھ ہیں تو وہ حملے کر رہے ہیں، وہ خدا کا رسول جو سارے انسانوں میں سے مقدس ترین انسان ہے جو سید ولد آدم ہے اور جس کی بلندشان تک نہ کوئی پہنچا اور نہ کوئی آئندہ پہنچ سکتا ہے اس کی عزت کو اس طرح پارہ پارہ کیا جارہا ہے کہ گویا اس کی کوئی قیمت ہی نہیں یہی وہ حالات تھے جن کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کی غیرت بھڑ کی اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہر اس ہاتھ کو توڑ دیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُٹھا، ہر اس زبان کو کاٹ دیا جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدزبانی اور بدگوئی کا ارادہ کیا اور آئندہ بھی ہر وہ ہاتھ تو ڑ دیا جائے گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُٹھے گا اور ہم جانتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں رسول کریم کی ایک ذرہ بھر بھی محبت ہے وہ آج نہیں تو کل ہمارے پاس آئے گا ہم سپاہی ہیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ کی حفاظت کے لئے کھڑے ہیں جس طرح انصار نے کہا تھا کہ يَارَسُوْلَ اللہ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی