ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 160
160 کر لوگوں کو پھر اسلام پر قائم کرے گا اور آپ کسی موسوی نبی کے شرمندہ احسان نہیں ہوں گے۔یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں جن سے یہ مسئلہ آسانی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔باقی رہا نبوت کا مسئلہ سواس کے متعلق بھی مخالف علماء لوگوں کو تخت مغالطہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہے۔ان کا مفہوم اس اصطلاح سے یہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے حضرت مرزا صاحب کو نبوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک بنالیا ہے حالانکہ یہ بھی درست نہیں کیونکہ نبوت کو جس رنگ میں وہ پیش کرتے ہیں اس رنگ میں ہم اسے مانتے ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسی نبوت کے مدعی ہیں جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوتی ہے اس لئے وہ آپ کی نبوت کو شرک فی النبوۃ قرار دیتے ہیں اور چونکہ شرک کا لفظ ایک مسلمان کیلئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بیل کیلئے سُرخ چیتھڑا، اس لئے شرک فی النبوۃ کے الفاظ سنتے ہی مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو کتنا بڑا اندھیرا ہے کہ احمدی شرک فی النبوۃ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہمارا عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ ہر روز بڑھتا ہے اور کوئی دن آپ پر ایسا نہیں آتا جب آپ پہلے مقام سے اور زیادہ آگے نہیں نکل جاتے۔چنانچہ میں نے جس وقت یہ تقریر شروع کی تھی اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس مقام قرب پر فائز تھے میں یقین رکھتا ہوں کہ اس وقت وہ اس مقام سے بہت زیادہ آگے نکل چکے ہیں۔کوئی لمحہ ایسا نہیں جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ میں ترقی نہیں ہوتی اور کوئی وقت ایسا نہیں جب آپ کے مدارج بلند نہیں ہوتے مگر ہمارے مخالف کنویں کے مینڈک کی طرح یہ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ سو سال سے ایک مقام پر بیٹھے ہوئے ہیں حالانکہ آپ روز بروز درجہ میں بڑھ رہے ہیں اور جب ہرلحہ آپ کے درجات میں ترقی ہو رہی ہے تو لازماً آپ کا پیر د بھی درجات میں ترقی کرتا جائے گا۔اور آپ کے نقش قدم پر چلتا ہوا ان مقامات سے گزرتا جائے گا جن مقامات سے آپ گذر چکے ہیں لیکن آپ کا پیرو اور نقش قدم پر چلنے کا دعوی کرتے ہوئے وہ کبھی آپ کے برابر نہیں ہوسکتا اور نہ آپ سے آگے بڑھ سکتا ہے کیونکہ آپ کے درجات میں ہر لمحہ ترقی ہو رہی ہے اور آپ کا منبع اور پیر و جتنا بھی آگے بڑھے گا وہ بہر حال آپ کے پیچھے ہی رہے گا۔اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام با وجود نبوت کے مقام پر فائز ہونے کے کبھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتے کیونکہ آپ نے یہ مقام آپ کی کامل پیروی سے حاصل کیا ہے۔یہی مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شعر میں بیان فرمایا۔ہم ہوئے غیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے یعنی اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو نبی کس طرح ہو گیا میں تو نبی اس لئے ہوا کہ تو خیر رسل ہے تو جتنا جتنا آگے بڑھتا ہے اتنا اتنا میں بھی بڑھتا چلا جاتا ہوں۔پس تو آگے ہے اور میں پیچھے۔مگر مولوی کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہو گیا۔حالانکہ یہ شرک کس طرح ہو گیا۔جب کہ تیرے مقام کو میں حاصل ہی نہیں کر سکتا