ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 159
159 دیئے تھے کہ آخری زمانہ میں بھی انہی کا بھیجا جانا خدا کو پسند آیا۔انہوں نے دنیا میں یہی کام کیا کہ چندر وز لوگوں کو تبلیغ کی اور جب یہود نے صلیب پر لٹکانا چاہا تو آسمان پر چلے گئے۔اس میں انہوں نے کونسی ایسی کا میابی حاصل کی تھی کہ آخری زمانہ میں بھی ان کا نزول ضروری تھا۔جو شخص آسمان پر چلا گیا اس نے بالفاظ دیگر دنیا کو پیٹھ دکھا دی۔اب وہ شخص جو دنیا کو پیٹھ دکھا چکا ہے اور جس نے اپنے زمانہ کا کام بھی پورا نہیں کیا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کا کیا کام کرے گا اور کس کامیابی کی اس سے توقع رکھی جا سکتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی شدید ہتک ہے اور اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بہت بڑا حرف آتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا قادر نہیں اور ضرورت پر وہ امت محمدیہ میں سے کسی نئے آدمی کو تیار نہیں کر سکتا۔اب دیکھ لو کہ اس عقیدہ کو تسلیم کرنے میں نہ خدا کی عزت ہے اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت۔پھر یہ عقیدہ رکھنے میں حضرت مسیح کی بھی تو کوئی عزت نہیں۔ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے بچ گئے تھے مگر دوسرے مسلمانوں کے نزدیک آسمان پر بھاگ گئے تھے۔اور یہی ایک نبی کی سب سے بڑی توہین ہے کہ جو کام اس کے سپر د تھا وہ تو اُس نے نہ کیا اور آسمان پر جا بیٹھا۔پھر خدا نے تو حضرت مسیح کو نبی قرار دیا ہے مگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں جب وہ نازل ہوں گے تو نبی نہیں ہوں گے بلکہ امتی ہوں گے گویا جسے خدا نے مستقل نبی قرار دیا تھا اسے وہ تابع نبی بنا دیتے ہیں اور اس طرح اس کی ہتک کے مرتکب ہوتے ہیں۔اگر تو یہ کہا جاتا کہ چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لئے اس کی سزا میں انہیں امتی بنا دیا جائے گا تو گو پھر بھی ایک نبی کی تذلیل ہوتی مگر یہ بات کسی حد تک معقول قرار دی جا سکتی تھی۔لیکن بغیر کوئی قصور بتائے مولویوں کی طرف سے یہ مسئلہ پیش کیا جاتا ہے کہ خدا انہیں مستقل نبی کی بجائے تابع بنی بنادے گا اور اس طرح وہ اپنے عمل سے حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی ہتک کرتے ہیں۔پھر یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ جو شخص بنی اسرائیل میں ایک چھوٹے سے فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکا وہ امت محمدیہ میں آکر اس دجالی فتنے کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے۔جس فتنہ سے بڑا فتنہ آج تک دنیا میں کوئی ہوا ہی نہیں۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر سمجھا جائے تو اس میں خدا کی بھی ہتک ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی ہتک ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی ہتک ہے۔۔۔۔۔۔غرض حیات مسیح کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ خدا کی اس میں عزت نہیں، رسول کریم کی اس میں عزت نہیں، حضرت عیسی علیہ السلام کی اس میں عزت نہیں صرف مولویوں کی عزت ہے مگر خدا اور اس کے رسولوں کے مقابلہ میں ان مولویوں کی عزت کی کیا حقیقت ہے کہ کوئی با غیرت مسلمان اس کا خیال رکھ سکے۔مگر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی اور اب اُمت محمدیہ کی اصلاح کیلئے انہیں ہی امتی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ایک شخص کو اصلاح خلق کیلئے کھڑا کر دے گا، وہ آپ کے نور میں سے نور لے گا اور آپ کی معرفت میں سے معرفت اور اس طرح وہ آپ کا غلام اور خادم بن