ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 158
158 محبوب ہے پھر میں اس سے کیوں محبت نہ کروں۔وہ خدا تعالیٰ کا مقرب ہے پھر میں کیوں اس کا قرب نہ تلاش کروں۔میرا حال مسیح موعود کے اس شعر کے مطابق ہے کہ ؎ بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بکلی بند ہونے کے عقیدے کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔حقيقة النبوة صفحه 185-186 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 172) شرک فی النبوۃ میں کیا آنحضور کی عزت ہے؟ آپ فرماتے ہیں:۔" یہ جو بات تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے واپس آنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے یا ذلّت اس نقطہ نگاہ سے بھی اگر غور کیا جائے تو حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ثابت ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کا سوال ہی نہیں اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے خدا تعالیٰ کی عزت ہو تب بھی ہم ان کے دوبارہ آنے کو تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ خدا کی عزت دنیا میں قائم ہو لیکن اگر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا عقیدہ تسلیم کرنے میں نہ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی ذلت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس عقیدہ سے بڑھ کر خطرناک اور کوئی عقیدہ نہیں ہو سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کی عزت کا سوال لو تو سیدھی بات ہے کہ اس عقیدہ کی رو سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ انیس سو سال سے خدا تعالیٰ نے ایک شخص کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے کہ کہیں وہ ضائع نہ ہو جائے اور اصلاح خلق کا کام رُک نہ جائے گویا جس طرح غریب آدمی اپنی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے اسی طرح خدا نے بھی اپنی اس چیز کو خوب حفاظت سے رکھا ہوا ہے۔آخرا امیر اور غریب میں کیا فرق ہوتا ہے یہی فرق ہوتا ہے کہ غریب آدمی اگر صبح کی دال بچ جائے تو بیوی سے کہتا ہے اسے سنبھال کر رکھ دینا رات کو کام آئے گی۔یا سردیوں میں اگر اسے کوئی گرم کپڑا ملتا ہے تو سردیاں ختم ہونے پر نہایت حفاظت سے گٹھڑی باندھ کر رکھ دیتا ہے یا صندوقوں میں حفاظت سے اسے بند کرتا ہے کہ اگلی سردیوں میں وہ کپڑے کام آئیں۔۔۔۔۔۔مگر اللہ تعالی جو قادر ہے اور جس کی قدرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جب بھی دین کے لئے کسی نئی چیز کی ضرورت ہو وہ اپنی قدرت سے اس نئی چیز کو مہیا کر دے۔اس کے متعلق مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس نے انہیں سو سال سے حضرت عیسی علیہ السلام کو سنبھال کر آسمان پر زندہ رکھا ہوا ہے محض اس لئے کہ امت محمدیہ کو جب آخری زمانہ میں دینی لحاظ سے نقصان پہنچا تو میں اس کے ازالہ کے لئے اسے آسمان سے نازل کروں گا۔گویا وہی کنگالوں والی بات ہوئی جو صبح کی دال بچا کر شام کے لئے رکھ لیتے ہیں۔آخر حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں کون سے کارنامے سرانجام