ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 157 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 157

157 " ٹیچنگ آف اسلام" نے ایک پنڈت کے نظریات تبدیل کر دیئے 1932ء کے آغاز میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے جماعت کو نہایت جوش کے ساتھ اپنوں اور غیروں یعنی غیر مسلم افراد کو تبلیغ کرنے کی تحریک فرمائی اور اس سال مجلس مشاورت میں سال میں کم از کم دو یوم التبلیغ منانے کی طرف توجہ دلائی۔اس طرح جب اسلام کا پیغام زبانی وتحریری طور پر وسیع پیمانہ پر لوگوں تک پہنچا۔تو غیروں میں ایک حرکت پیدا ہوئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان کامیاب کوششوں کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں ایک پنڈت کرتار سنگھ فلاسفر کے ان خیالات کا ذکر فرمایا کہ اسلامی اصول کی فلاسفی کے انگریزی ترجمہ " دی ٹیچنگ آف اسلام " نے میرے خیالات کی کایا پلٹ دی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔امرتسر میں ہمارے دوست ایک سکھ عالم کے پاس گئے تو انہوں نے نہایت تکریم کے ساتھ بٹھایا اور اس امر پر افسوس کیا کہ آپ تبلیغ تو ہم لوگوں کو کرتے ہیں۔اور ان مولویوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ آپ کی خواہ مخواہ مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اسلام کا سخت مخالف تھا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ڈا کو سمجھتا تھا مگر مرزا صاحب کی کتب کے مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں سخت غلطی پر تھا اور اس دن سے میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔خدا جانے ان مولویوں کو کیا ہو گیا اور یہ آپ لوگوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔میرے دل میں اگر اسلام کی عزت ہے تو محض مرزا صاحب کے طفیل ہے۔" 9 مارچ 1921ء کو مالیر کوٹلہ کے مقام پر موازنہ مذاہب کے نام پر لیکچر دیا اور صداقت اسلام پر دلائل دیئے۔تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 17 ) حضرت مسیح موعود کو نبی تسلیم کرنے سے قطعاً تک رسول نہیں ہوتی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ، مولوی محمد علی صاحب کی تصنیف "القول الفصل کی ایک غلطی کا اظہار " کے جواب میں ایک معرکتہ الآراء کتاب حقیقۃ النبوۃ" کے نام سے شائع کروائی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تمام پہلوؤں پر نہایت جامعیت سے بڑی سیر کن اور تسلی بخش بحث کی ہے۔اس میں آپ اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔نادان انسان ہم پر الزام لگاتا ہے کہ مسیح موعود کو نبی مان کر گویا ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔اسے کسی کے دل کا حال کیا معلوم؟ اسے اس محبت اور پیار اور عشق کا علم کس طرح ہو جو میرے دل کے ہر گوشہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہے۔وہ کیا جانے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میرے اندر کس طرح سرایت کر گئی ہے۔وہ میری جان ہے، میرادل ہے، میری مراد ہے، میرا مطلوب ہے۔اس کی غلامی میرے لئے عزت کا باعث ہے اور اس کی کفش برداری مجھے تخت شاہی سے بڑھ کر معلوم دیتی ہے۔اس کے گھر کی جاروب کشی کے مقابلہ میں بادشاہت سفت اقلیم بیچ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا پیارا ہے پھر میں کیوں اس سے پیار نہ کروں۔وہ اللہ تعالیٰ کا