ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 156
156 iii۔ایک مسلمان کے مضمون "جواز سود " کے جواب میں اور پادری اکبر مسیح کے "پیغام صلح" پر اعتراضات کے جواب میں آپ نے قلم اٹھایا۔تشخیذ الا ذہان جلد 3 نمبر 13 صفحہ 487 تا490) iv - 1909ء کے تفخیذ میں "نجات "بجواب لیکچر پادری مکملن اور تبلیغ اسلام کے عنوان پر مضامین شائع ہوئے۔۔اسلام کے خلاف بدنام زمانہ کتاب ستیارتھ پرکاش پر ایک ریویوتحریر فرمایا جو وحید الاذہان 1911ء میں طبع ہوا۔اخبار الفضل کے ذریعہ ناموس رسالت کی حفاظت جون 1913ء میں "الفضل" کے نام سے قادیان سے ایک نیا اخبار جاری ہوا۔تفخیذ کی طرح الفضل نے بھی اسلام کی تعلیم کی اشاعت اور ناموس رسالت کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے زمانہ ادارت میں قیمتی اداریوں کے ذریعہ مسلمانوں کی رہنمائی کی گئی۔سیرۃ النبی کے موضوع پر آپ نے نئے اور اچھوتے انداز سے قلم اٹھایا۔اس کے علاوہ " میر امحمد " کے نام پر آپ کے مضمون نے خاص شہرت حاصل کی۔تحریر و تقریر کے ذریعہ جواب حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اسلام کے دفاع اور حرمت رسول کے لیے احباب جماعت کو جہاں اور بہت سے امور کی طرف دعوت دی وہاں اہل قلم و علم دوست احباب کو تحریر و تقریر میں اسلام کے دفاع کی طرف بلا یا۔چنانچہ آپ نے اپنی خلافت کی ابتداء میں ہی 1915ء کے ایک خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔" اس زمانہ میں جواسلام کے لئے تلوار اٹھائے گا اور تلوار سے اسلام کے مخالفوں کا مقابلہ کرنا چاہے گا، وہ اسلام کی حفاظت کرنے کی بجائے خود ذلیل ہو جائے گا۔پس اس وقت اسلام کی حفاظت کا ایک ہی جائز ذریعہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر کر دیا ہوا ہے اور وہ یہ کہ ہم تحریر سے، تقریر سے اور دعاؤں سے دشمنوں کا مقابلہ کریں۔" (خطبات محمود جلد 4 صفحہ 320) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر کتب ( سیرت خاتم النبیین ) حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے قلم سے کبھی یہ کتاب تین جلدوں میں حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دور مبارک میں شائع ہوئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس زبر دست علمی کارنامہ پر فرمایا۔میں سمجھتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی سیر تیں شائع ہو چکی ہیں ان میں سے یہ بہترین کتاب ہے۔اس تصنیف میں ان علوم کا بھی پر تو ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں۔اس کے ذریعہ انشاء اللہ اسلام کی تبلیغ میں بہت آسانی پیدا ہوگی۔" تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 260)