ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 155 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 155

155 اخبار " سن رائز " اور اخبار "مصباح " کا اجراء بھی اسلام کی دیگر مذاہب کے ساتھ جاری جنگ میں معاون اور تائید کے لئے ہوا۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 566) انجمن ہمدردان اسلام اور تشخحید الا ذہان کے ذریعہ ناموس رسالت کا دفاع 1897ء میں جبکہ حضرت مصلح موعود ا بھی صرف آٹھ نو برس کے تھے قادیان کے احمدی نوجوانوں نے ایک انجمن انجمن ہمدردان اسلام " قائم کی آپ اس کے ایک سرگرم رکن تھے۔حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی بیان فرماتے ہیں کہ :۔" کھیل کو داور بچپنے کے دوسرے اشغال میں انہماک کے باوجود آپ کے دل میں خدمت اسلام کا ایسا جوش اور جذ بہ نظر آیا کرتا تھا۔جس کی نظیر بڑے بوڑھوں میں بھی شاذ ہی ہوتی۔آپ کی ہر ادا میں اس کا جلوہ اور ہر حرکت میں اس کا رنگ غالب و نمایاں ہے۔۔۔۔۔۔الغرض ایسے ہی مشاغل اور مصروفیتوں کے نتائج میں سے ایک انجمن ہمدردان اسلام کا قیام بھی ہے جو آپ کی خواہش، مرضی اور منشاء کے ماتحت قائم کی گئی۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 39-40) جیسا کہ اس انجمن کے نام سے ہی یہ بات عیاں ہے کہ یہ خدمت اسلام اور ہمدردی اسلام کے لئے وجود میں آئی تھی۔دراصل تفخیذ الا زبان کا پہلا اور ابتدائی نام " انجمن ہمدردان اسلام " ہی تھا۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 39) کچھ عرصہ تک اس کی سرگرمیاں تیزی سے جاری رہنے کے بعد رفتہ رفتہ جب کم ہوئیں تو 1900ء میں انجمن تفخیذ الا ذہان کا نام دیا گیا جس کا مقصد نو جوانان احمدیت کو تبلیغ اسلام اور اسلام پر ہونے والے اعتراضوں کا جواب دینے کے لئے تیار کرنا تھا۔دسمبر 1905 ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے ذریعہ اس میں ایک دفعہ پھر جان پڑی اور مارچ 1906ء میں آپ کی ادارت میں رسالہ تشخیذ الاذہان نکلنا شروع ہوا۔ویسے تو جماعت کے تمام اخبارات و رسائل نے اسلام کی حمایت میں اسلام کے دفاع میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے تاہم رسالہ تفخیذ الاذہان نے اسلام کا دردر کھنے والے نو جوانوں میں خدمت اسلام اور اشاعت اسلام کی ایک نئی روح پھونک دی۔آپ کے قلم مبارک سے اسلام کی تائید وحمایت میں اور دشمنوں کے اسلام کے خلاف اعتراضات کے جواب میں معرکہ آراء مضامین اس میں شائع ہوئے۔آپ کے دل میں خدمت دین کا اتنا جوش موجزن تھا کہ اپنی نوعمری کی حالت میں تربیتی اور اصلاحی مضامین لکھنے کے علاوہ مخالفین اسلام کے ساتھ گویا چو کبھی جنگ جاری کر رکھی تھی۔تشخیز الاذہان کے ابتدائی حالت میں ہی ایک مسلمان گریجوائیٹ کے ارتدار پر آمادہ ہونے کی اطلاح ملی تو اس دردمند دل میں با وجود آنکھوں کی تکلیف کے ایک جوش پیدا ہوا اور خود اس کے سوالات کے مفصل جوابات تحریر فرمائے۔( تفخیذ الا ذبان 1906 ، صفحہ 93 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 61-62) ii۔اسی طرح ایک پادری ڈاکٹر ایچ وائٹ برینٹ کے مصر قاہرہ کے ایک مشنری کانفرس میں اسلام کے خلاف لیکچر کے رد میں ایک پر زور مضمون تفخیذ الاذہان اپریل 1908ء کے صفحہ 125 تا 144 میں شائع ہوا۔