ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 154 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 154

154 مسئله قتل مرتد اور اسلام کو بدنام کرنے کی سازش تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 514) 1924ء میں کابل میں ایک دفعہ پھر مولوی عبدالحکیم صاحب اور قاری نور علی صاحب کی سنگساری سے ظلم کی داستان دہرائی گئی۔تو تنگ نظر علماء نے امیر امان اللہ خان کے اس فعل کو مستحسن قرار دیا۔جس سے دشمنان اسلام کے ہاتھ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بدنام کرنے کا ایک اور ہتھیار آ گیا۔انہوں نے قتل مرتد پر اداریے لکھے اور مضامین شائع کئے۔اس پر بعض علمائے اسلام نے ان کا دفاع بھی کیا مگر مسلسل غیر مسلموں کی طرف سے اسلام کو بدنام کیا جار ہا تھا۔اس وقت آپ نے قلم ہاتھ میں لیا اور ایسے مدل متین اور زور دار رنگ میں اس نازک مسئلہ پر قلم اٹھایا کہ اپنوں اور بے گانوں کی پیدا کردہ غلط فہمیوں ہی کا ازالہ نہیں ہوا بلکہ اسلام کا مذہب امن و صلح ہونا بھی پورے طور پر عیاں ہو گیا۔ان مضامین کو قتل مرتد اور اسلام کے نام سے کتابی شکل دے دی گئی۔جماعت احمدیہ کے اس موقف پر مولوی ثناء اللہ نے بھی تائید کی۔جماعتی آرگنز کا گستاخی رسول کے سد باب کے لئے ایک مثالی کردار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور کے جماعتی اخبار الحکم، بدر اور پھر حضرت مصلح موعودؓ کے دور میں الفضل اور بعد ازاں ذیلی تنظیموں کے منصہ شہود پر آنے کے بعد ان تنظیموں کے آرگنز نے ناموس رسالت کے حق میں خوب آواز بلند کی اور اس حوالے سے جماعت احمدیہ کی کاوشوں کے علم کو بلند سے بلند تر کئے رکھا۔ان اخبارات ورسالہ جات نے مسلمانان ہند کی ترقی و بہبود کے لئے مسلسل آواز اُٹھائی اور ان کے خلاف ملک میں اٹھنے والے ہر فتنہ کے خلاف پُرزور طریق سے اور بڑی جرات کے ساتھ قلم اٹھایا۔اور گستاخی رسول ، توہین رسالت اور حرمت رسول پر مضامین کا سلسلہ جاری رکھا۔جس سے ناموس رسالت کا واضح اظہار ہوتا رہا۔اس سلسلہ میں یہ تمام آرگنز اپنے سالانہ یا سہ ماہی نمبر ز بھی نکالتے رہے۔برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی جو مسلسل حق تلفی دیکھنے میں آرہی تھی اور ہر اہم عہدہ پر کسی ہند، وسکھ یا انگریز کی تعیناتی دیکھنے کو ملی تھی۔جس سے ایک مسلمان کی اسلام کی محبت میں، اسلام کی خاطر غیرت جوش میں آتی رہی۔اس حوالہ سے اخبار "الفضل" نے بہت اہم کردار ادا کیا۔اس ضمن میں بے شمار، ان گنت واقعات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔لیکن طوالت سے بچتے ہوئے صرف ایک دو واقعات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔رد عیسائیت کے لئے اخبار صادق کا اجراء جون 1916ء میں رد عیسائیت کے لیے اخبار صادق جاری کیا گیا جو چند اشاعتوں کے بعد بند ہو گیا۔تاہم جتنے پر چے اس کے شائع ہوئے۔ان میں اسلام کا بول بالا ہونے کے لئے مضامین شائع ہوئے اور اسلام اور عیسائیت کی تعلیمات میں تقابلی موازنہ بھی شائع ہوتا رہا۔جس سے عیسائیت کے دانت کھٹے ہوئے۔